انوارالعلوم (جلد 4) — Page 104
انوار العلوم جلدم ۱۰۴ علم حاصل کرو کہ وہ ایک دفعہ کی بتائی ہوئی بات بھول جاتے ہیں، بعض ایسے ہوتے ہیں جنہیں بار بار کے بتانے پر اثر ہوتا ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کی یاد تازہ کرا دی جائے تو وہ اطاعت میں اور اور زیادہ ترقی کرتے ہیں اس لئے میرا یہ کہنا انشاء الله سب کیلئے مفید ہوگا۔پس اپنے اوقات کو یہاں اچھی طرح صرف کردو اور فائدہ اٹھاؤ۔مُرید ہونے کے یہ معنی نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کرلیا اور بس بلکہ یہ ہیں کہ جس کا مرید بنا جائے اس کی ہدایات اور احکام کی اطاعت کر کے دینی فائدہ حاصل کیا جائے۔ایسا شخص جو مُرید ہو کر کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اس کیلئے کچھ شرائط ہیں جو نہایت ضروری اور مفید ہیں لیکن اب موقع نہیں ہے کہ ان تمام کو میں بیان کروں۔ہاں میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالی توفیق دے تو پھر کبھی بیان کروں۔فی الحال میں ایک دو باتیں بتانی چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ کسی نیک انسان کے پاس یا بابرکت مقام پر اخلاص جانا مشکل نہیں ، ہاں وہاں سے اخلاص کے ساتھ لوٹنا مشکل ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ ایسے انسان نے اپنے ذہن میں عجیب عجیب نقشے بنائے ہوتے ہیں اور جب ان کو پورا ہوتا نہیں دیکھتا تو اسے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔کئی لوگوں کو جب خدا تعالی ہدایت دیتا ہے اور وہ بیعت کرتے ہیں تو سناتے ہیں کہ ہم نے تو آپ کے متعلق ایسا نقشہ کھینچا ہوا تھا کہ آپ ایک لمبا جبہ پہنے ہوں گے، ہاتھ میں بڑے بڑے منکوں کی تسبیح ہوگی، الا الله إلا الله کے نعرے لگا رہے ہوں گے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا یہاں ایک شخص آیا مجھے کہنے لگا آپ نے کوٹ کیوں پہنا ہوا ہے۔میں نے کہا کیا حرج ہے۔اس نے کہا سنت کے خلاف ہے مجبہ پہننا چاہئے۔تو ہر رنگ کے انسان اپنی اپنی طرز کے مطابق کوئی نقشہ کھینچتے ہیں۔جو صوفیوں کے ملنے والے ہوتے ہیں وہ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ قادیان میں لوگوں نے بڑی بڑی تسبیحیں گلے میں ڈالی ہوں گی، حلقے بنے ہوں گے اور قوالی ہو رہی ہوگی لیکن یہاں آکر دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ وعظ اور لیکچر ہو رہے ہیں، مسجدوں میں اِلا اللہ کے نعروں کی بجائے علمی مباحثات اور تبلیغ دین کی باتیں بھی ہوتی ہیں، اسی طرح ایک مولوی صاحب آتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ قادیان میں تو تصوف کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔مگر یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ نوافل پڑھے جاتے ہیں، کر الہی کیا جاتا ہے، روحانیت اور قلب کی اصلاح کیلئے اذکار کئے جاتے ہیں، یہی حال اور طبقات کے لوگوں کا ہے۔وہ اپنے ذہن میں اپنے خیال کے مطابق ایک نقشہ تجویز کرلیتے ہیں