انوارالعلوم (جلد 4) — Page 105
انوار العلوم جلد ۴ ۱۰۵ علم حاصل کرو جو پورا نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ اخلاص کے ساتھ آنا مشکل نہیں بلکہ جانا مشکل ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ بعض ایسی باتیں بیان کروں جو ان لوگوں کیلئے جو اس سلسلہ میں نئے داخل ہوئے ہیں یا جنہیں ابھی داخل ہونے کی توفیق نہیں ملی فائدہ مند ہوں اور ان کو حق کے قبول کرنے میں مدد دیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیشہ ہر بات کو غور فکر ہر بات کو احتیاط کی نظر سے دیکھنا چاہئے اور احتیاط کی نظر سے دیکھنا چاہیئے اور فیصلہ میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس قدر لوگ یہاں جلسہ پر آتے ہیں وہ سارے کے سارے پڑھنے پڑھائے اور سیکھنے سکھائے نہیں آتے بلکہ ان میں سے کئی ایک ایسے بھی ہوتے ہیں جو پرانے خیالات کو لے کر پہلی دفعہ ہی آتے ہیں اس لئے اگر ان کی طرف سے کوئی ایسی بات ظاہر ہو جو روا نہ ہو تو انہیں معذور سمجھنا چاہئے اور ان کی وجہ سے احمدیت پر کسی قسم کا حرف نہیں لانا چاہئے۔مثلاً سندھ کے علاقہ کا کوئی شخص جہاں پیروں کے آگے سجدہ کیا جاتا ہے یہاں آئے اور اگر گردن ڈال دے تو پہلے تو وہ اپنے رواج کے مطابق ایسا ہی کرے گا بعد میں ہم اسے اٹھائیں گے اور بتائیں گے کہ یہ درست نہیں ہے۔اب اگر کوئی اسے دیکھ کر یہ سمجھ لے کہ یہاں بھی پیر پرستی ہوتی ہے تو یہ اس کی جلد بازی ہوگی کیونکہ جس نے یہ حرکت کی ہے وہ تو یہاں اپنی اصلاح کیلئے آیا ہے۔اگر وہ پہلے ہی سب کچھ جانتا اور ایسی باتوں میں گرفتار نہ ہوتا تو اسے یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ہاں اب جبکہ وہ یہاں آگیا ہے ہم اسے پڑھائیں گے اور اس کے مرض کو درست کریں گے۔تو اس قسم کی باتیں جو لوگ کرتے ہیں وہ نئے آنے والے ہوتے ہیں اس لئے ان کے کسی فعل کو ہماری جماعت کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے۔ہجوم میں طبائع کا اختلاف ضروری ہے دوسرے یہ کہ ہجوم میں اختلاف ہونا ضروری بات ہے۔حضرت خلیفہ اول اس کی مثال پگڑیوں سے دیا کرتے تھے۔تو جس طرح لوگوں کی ان ظاہری چیزوں میں اختلاف ہوتا ہے اسی طرح طبائع میں بھی اختلاف ہوتا ہے اس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔لیکن بعض لوگ جب اپنی طبیعت کے خلاف کوئی بات دیکھتے ہیں تو ناراض ہو جاتے ہیں۔مثلاً کئی لوگ جوش کی وجہ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر دوسرے اس پر چڑتے ہیں۔مجھے تعجب آتا ہے کہ ان کے چڑنے