انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xii

انوار العلوم جلد ۴ لاؤ اور اس کے راستبازوں کی تکذیب سے باز آجاؤ ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔میں اپنی طرف سے حق ادا کر چکا ہوں"۔جماعت کو سیاست میں دخل نہ دینے کی نصیحت ۲ دسمبر ۱۹۱۷ء کو قیام امن اور اطاعت حکومت کے سلسلہ میں جماعتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس پمفلٹ میں حضور نے فرمایا: ”ہمارے امام و پیشوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو نہایت سختی سے ہر قسم کے ایجی ٹیشنوں اور سیاسی تحریکات میں لینے سے منع فرمایا ہے کیونکہ آپ کا مسلک شروع سے یہی رہا ہے کہ جہاں تک ہو سکے حکومت کے ہاتھ کو مضبوط کیا جاوے"۔اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا: ہم سے زیادہ کوئی شخص اس بات کا خواہش مند نہیں ہو سکتا کہ تمام ملک میں صلح اور امن ہو اور ہم اور دیگر ابنائے وطن بھائی بھائی کی طرح رہیں۔۔۔ہم اس کے مخالف نہیں کہ گورنمنٹ ہندوستان کو خود اختیاری دے بلکہ صرف اس بات کے مخالف ہیں کہ ایسے وقت میں دے جب اس کا نتیجہ ملک و قوم کیلئے ہلاکت کا موجب ہو"۔سیاسی معاملات کے متعلق ایک راہنما اصول بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: ”ہماری جماعت کی سیاست بھی مذہب کے ماتحت ہے اس لئے ہم کو جس امر پر خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے اس سے ہل نہیں سکتے"۔۷۔علم حاصل کرو حضرت مصلح موعود نے یہ اہم تقریر ۲۷ دسمبر ۱۹۱۷ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان میں فرمائی۔یہ تقریر دو حصوں میں ہوئی۔مضمون کا ایک حصہ حضور نے نماز ظہر سے قبل بیان فرمایا اور دسرا ظہر کی نماز کے بعد دوسرے اجلاس میں تقریر کا آغاز کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ ان دنوں پھر ہماری مخالفت بڑھ رہی ہے۔ہر طبقہ اور ہر گروہ اس کوشش میں ہے کہ جماعت احمدیہ کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اور اس کی تائید سے سخت مخالفت کے باوجود جماعت ترقی کرے گی اور یہی بات اس کی صداقت کی