انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 64

انوار العلوم جلدم ۶۴ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے اس میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ میں نذیر ہوں یعنی جس طرح کہ پہلے نبی آتے رہے ہیں اسی طرح کا میں بھی نبی ہوں ( نذیر جب مأمور کی نسبت بولا جاوے تو لغت میں اس کے معنی نبی کے ہوتے ہیں) دنیا مجھے قبول نہیں کرے گی مگر اللہ جس نے مجھے بھیجا ہے وہ قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے دنیا کو منوا کر چھوڑے گا۔یہ پیشگوئی آپ نے اس وقت شائع کی جبکہ آپ کا ایک بھی مرید نہ تھا۔پھر جب آپ نے دعوی کیا تو چاروں طرف سے دشمنوں نے آپ پر حملے کرنے شروع کر دیئے۔عیسائیوں ہندوؤں اور خود آپ کے ہم مذہبوں نے آپ کی مخالفت کے لئے کمر باندھ لی۔قتل کی سازشیں کی گئیں۔کافر قرار دیا گیا اور یہاں تک فتوے دیئے گئے کہ جو شخص اس سے کلام کرے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور اس کی اولاد ولد الزنا ہوگی۔پھر ایسے شخص سے جو مصافحہ کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا جو اس کی شکل دیکھے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔غرض کہ آپ کے خلاف کفر اور سازشوں اور منصوبوں کا ایسا حربہ چلایا گیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔مگر باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ انجام کار کامیابی آپ ہی کو ہوئی۔ایک بڑے سے بڑے انسان کے جب اس قدر مخالف پیدا ہو جائیں اور اس زور کے ساتھ حملہ آور ہوں تو وہ تباہ ہو جاتا ہے۔چہ جائیکہ دنیاوی لحاظ۔ایک معمولی آدمی کے ساتھ ایسا سلوک ہو اس کا جو حال ہونا چاہئے وہ سمجھ لیا جائے۔مگر حضرت مرزا صاحب نے ایسی ہی حالت میں اعلان کیا کہ میں نذیر ہو کر آیا ہوں اگر تم مجھے خوشی سے قبول نہ کرو گے تو زبر دستی قبول کرایا جائے گا۔پھر آپ نے فرمایا: - فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ : بَيْنَ النَّاسِ ( تذکرہ صفحہ ۲۷۳ ایڈیشن چہارم) کہ وقت آگیا ہے کہ تیری مدد کی جائے اور تو دنیا میں پہچانا جائے۔پھر فرمایا يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (تذکره صفحه ۲۰۱ ایڈیشن چهارم) يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ ( تذکرہ صفحہ ۲۹۷ ایڈیشن چہارم) چاروں طرف سے تحفے تیرے پاس آدیں گے اور کثرت سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔یہ وہ وقت تھا جب کوئی انسان خیال بھی نہیں کر سکتا ہے تھا کہ ایسی حالت ہو جائے گی مگر حضرت مرزا صاحب نے جو نہ مال رکھتے تھے نہ شہرت نہ کوئی خطاب یافتہ تھے نہ سلطنت اور سوائے اس کے کہ آپ ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہر قسم کی دنیاوی عزت سے محروم تھے۔ایسے وقت میں آپ نے اعلان کر دیا کہ میرا نام تمام دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔اب دیکھو باوجود مخالفوں کی سخت مخالفت اور دشمنی کے نتیجہ کیا نکلا یہی کہ سب پہلوان جو آپ کے مقابلہ پر کھڑے ہوئے پچھاڑے گئے اور ابھی دس سال بھی