انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 63

انوار و العلوم جلد ۳ ۶۳ ربوبیت باری تعالیٰ ہر چیز پر محیط ہے اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور خدا تعالٰی کا رب العالمین ہونا اس کے اس دعوی کی کہ اب بھی دنیا ہے کی روحانی ربوبیت کے سامان ہونے چاہئیں تصدیق کرتا ہے۔گو یہ بات رہ جاتی ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ دعوی کرنے والا سچا ہے یا نہیں۔اس کے لئے میں مختصر طور پر کچھ دلائل بتاتا ہوں۔یاد رکھنا چاہئے کہ اس مدعی نے اس حضرت مرزا صاحب کے دعوی کی صداقت زمانہ میں جبکہ مادیات کا بہت زور شور ہے اور کوئی شخص ماننے کے لئے تیار نہیں کہ خدا بھی کلام کرتا ہے حتی کہ خدا نے جو پہلے کلام کیا ہوا ہے اسے بھی رد کیا جاتا ہے دعوی کیا ہے کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے۔اس وقت ہندوؤں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو باوجود اپنے پاس خدا کا کلام موجود ہونے کے کہتے ہیں کہ خدا کلام نہیں کرتا۔عیسائیوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو انجیل و تورات کی موجودگی کے باوجود خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کے منکر ہیں۔خود مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو خدا کے کلام کا انکار کرتے ہیں اس زمانہ میں اس قسم کا دعوی کوئی معمولی بات نہیں پھر ایک تعلیم یافتہ اور سمجھدار جماعت سے اس دعویٰ کی تصدیق کرانی اور بھی مشکل کام ہے مگر اس مشکل کام کو اس مدعی نے سرانجام دے کر دکھا دیا ہے اور جو شخص بھی اس کے حالات کو بے تعصبی کی نگاہ سے دیکھے گا اسے اس کی صداقت کا قائل ہونا پڑے گا۔آج سے چالیس سال پہلے اس شخص نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے۔دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔(تذکرہ صفحہ ۱۰۴ ایڈیشن چہارم) یہ الهام اس وقت آپ نے شائع کیا جبکہ آپ کی حالت نہایت کمزور تھی اور آپ کا نام تک کوئی نہ جانتا تھا۔قادیان ایک ایسی چھوٹی سی بستی تھی کہ جس کی کوئی شہرت نہ تھی۔ایک پرائمری مدرسہ اور ایک برانچ پوسٹ آفس تھا جس کے انچارج کو تین روپیہ ماہوار الاؤنس ملا کرتا تھا مگر باوجود اس کے کہ ہر لحاظ سے دنیاوی طور پر حالت کمزور تھی آپ نے دعوی کیا کہ میں اسلام کی صداقت میں یہ ثبوت پیش کرتا ہوں کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے اور یہ کلام کیا ہے کہ۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔(تذکرہ صفحہ ۱۰۴ ایڈیشن چهارم)