انوارالعلوم (جلد 4) — Page ix
انوار العلوم جلدم اور لغو ر بیہودہ باتوں سے بچو۔آپس میں تمہارے تعلقات اخوت و محبت کے اعلیٰ مقام پر ہوں۔ایک دوسرے کی غمگساری کرو جزوی اختلافات سے مؤاخات و مؤاسات میں فرق نہ آئے اگر کبھی بتقاضائے بشریت جھگڑا ہو جائے تو فوراً صلح کر لو اور دل میں کینہ نہ بٹھا چھوڑو۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایک دوسرے سے ہمدردی کرد کسی بھائی کی عداوت دل میں نہ بٹھاؤ بلکہ تم میں ایسی محبت اور اخوت ہو جو باہر کے لوگوں کے لئے نمونہ ہو۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو خیریت سے رکھے اور اپنے اوقات دین کی خدمت میں صرف کرنے اور باہم محبت ، اخوت اور امن و چین سے رہنے کی توفیق دے۔آمین عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے اکتوبر ۱۹۱۷ء کو حضرت مصلح موعود نے شملہ کے مقام پر عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عورتوں کے متعلق سب سے پہلی اور سب سے بڑی نصیحت جو انہیں کرنے کی ضرورت ہے یہ ہے کہ وہ شریعت کی اسی طرح پابند ہیں جس طرح مرد حضرات۔لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے ۹۵ ٪ عورتیں اپنے خاوندوں کی پیروی کرتی ہیں۔اگر خاوند شیعہ ہے تو عورت بھی شیعہ ہے علی ھذا القیاس۔حالانکہ عورتوں کو مذہب کی ضرورت ہے اور اس پر عمل کی بھی ضرورت ہے قرآن کریم پر عمل کرنے سے جہاں مردوں کے لئے جنت کے وعدے ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے اور اس کے بر خلاف کرنے والوں کے لئے جہنم۔مذہب کے احکام کا تو ڑنا جیسے مردوں کو نقصان دیتا ہے ویسے ہی عورتوں کو بھی دیتا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ عورتیں مردوں۔کی طرح دین نہ سیکھیں۔قرآن کریم نے خاص طور پر دو متقی عورتوں (فرعون کی بیوی اور حضرت مریم والدہ عیسیٰ) کا ذکر کیا ہے اور حاملین قرآن کو ان جیسا بننے کا ارشاد فرمایا ہے۔پس سب سے ضروری بات یہ ہے کہ عورتیں مذہب سے واقف ہوں مذہب سے ان کا تعلق ہو، مذہب سے انہیں محبت ہو، مذہب سے انہیں پیار ہو۔جب ان میں یہ بات پیدا ہو جائے گی تو وہ خود بخود اس پر عمل کریں گی اور دوسری عورتوں کے لئے نمونہ بن کر دکھا ئیں گی۔چند ایک مسائل جن کا یاد رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہیں۔خدا ملائکہ ، قرآن، رسل اور بعث بعد الموت پر ایمان لانا نماز پڑھنا، زکوۃ دینا، روزه