انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 581

علوم جلد ۴ ۵۸۱ تقدیر الهی کر اس پر کیونکہ سنا ہے کہ وہ رسول اللہ اللہ کو سخت رکھ دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں اس کی یہ بات سن کر میں تو حیران رہ گیا کیونکہ یہ خیال میرے دل میں بھی نہ آیا تھا۔لیکن ابھی میں نے اس کی پوری بات نہ سنی تھی کہ دوسرے نے میرے دوسرے پہلو میں کہنی ماری اور آہستہ سے ناکہ دوسرا نہ سن لے اس نے بھی یہی دریافت کیا کہ چچا! ابو جہل کون سا ہے ؟ جس نے سنا ہے رسول کریم پر بڑے بڑے ظلم کئے ہوئے ہیں۔اس پر میری حیرت اور بھی بڑھ گئی۔لیکن میری حیرت کی اس وقت کوئی حد نہ رہی جب میرے ابو جہل کی طرح اشارہ کرتے ہی باوجود اس کے کہ اس کے ارد گرد بڑے بڑے بہادر سپاہی کھڑے تھے وہ دونوں لڑکے شکروں کی طرح جھپٹ حملہ آور ہوئے (بخاری کتاب العفازى باب فضل من شهد بدرا اور چاروں طرف کی تلوار کے دار بچاتے ہوئے اس تک پہنچ ہی گئے اور اس کو زخمی کر کے گرا دیا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ہلاکت کے لئے جنگ کرانا اور مسلمانوں کا ان کے مقابلہ پر جانا ایک سبب تھا۔مگر خود اس تدبیر کی کمزوری ہی اس تقدیر کی عظمت پر دلالت تھی جو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ا کے لئے جاری کی تھی۔مگر یہ تدبیر نہ ہوتی تو اس تقدیر کی شان بھی اس طرح ظاہر نہ ہوتی اور صحابہ کو اپنی کمزوری اور اللہ تعالی کے جلال کا ایسا پتہ نہ لگتا جو اب لگا۔در حقیقت اپنی تلواروں میں ہی انہوں نے خدا تعالیٰ کی چمکتی ہوئی تلوار کو دیکھا اور ان اسباب میں ہی اپنی بے اسبابی کا علم حاصل کیا۔تیرہ چودہ سال کے لڑکے کس طرح ابو جہل کو مار سکتے تھے مگر انہوں نے مارا۔یہی حال ان دوسرے لوگوں کا تھا جو اس جنگ میں قتل کئے گئے۔وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ اس جنگ کے متعلق فرماتا ہے۔فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ (الانفال: ۱۸) کہ تم نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ ہم نے کیا ہے۔پھر رسول کریم ال کو فرمایا ہے۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَفى (الانفال: ۱۸) جب تو نے ان کفار پر پتھر پھینکے تھے۔یہ پھینکنا تیری طرف سے نہ تھا بلکہ ہماری طرف پر ؟ سے تھا۔بے شک کنکر تو رسول اللہ ا نے پھینکے تھے مگر چونکہ آندھی خدا کی طرف سے چلائی گئی تھی اور اس نے دشمن کو جنگ کے ناقابل کر دیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ ہی کی طرف اس فعل کو منسوب کیا گیا۔پس تقدیر کے ظہور میں بعض اوقات بے اسبابی کے اظہار کے لئے اسباب رکھے جاتے ہیں۔سو ئم انسان کو محنت اور کوشش کا پھل دینے کے لئے تقدیر کے ساتھ اسباب کے استعمال کا ۱۳ میں