انوارالعلوم (جلد 4) — Page 541
انوار العلوم جلد ۴ ۵۴۱ تقدیر الهی یہ کہنا کہ جو کچھ انسان کرتا ہے وہ انسان نہیں کرتا بلکہ قرآن ان باتوں کو رد کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے۔اور یہ کہنا کہ جو کچھ کرتے ہیں ہم ہی کرتے ہیں خدا کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔یہ دونوں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جن کو عقل ایک منٹ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتی۔اور کسی قرآن کریم کے پڑھنے والے کا یہ خیال کر لینا کہ ان میں سے کوئی ایک تعلیم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے ایک بیہودہ اور لغو بات ہے۔میں نے قرآن کریم کو الحمد سے لے کر والناس تک اس بات کو مد نظر رکھ کر پڑھا ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق وہ کیا کہتا ہے؟ لیکن میں یقینی طور پر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں اور اگر کوئی اور پڑھے گا تو وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ الحمد کے الف سے لے کر والناس کے س تک ایک ایک لفظ ان دونوں باتوں کو رد کر رہا ہے اور قرآن کریم ان کو جائز ہی کس طرح رکھ سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں غلط ہونے کے علاوہ اخلاق کو قتل اور روحانیت کو تباہ کرنے والی ہیں۔اسلام نے اس مسئلہ کے متعلق وہ تعلیم بیان کی ہے کہ اگر کوئی اسے سمجھ لے تو باخدا اور بڑے باخد الوگوں میں سے بن ہے۔اور اس طرز پر بیان کی ہے کہ کوئی عقل اور کوئی علم اور کوئی فلسفہ اس پر اعتراض نہیں کر سکتا اور بہت مفید تعلیم ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ تقدیر یہ ہے کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ خدا ہی کراتا ہے۔مثلاً اگر کسی کو قتل کر دیں تو خدا ہی کرتا ہے ہم کیا کر سکتے ہیں۔اور دوسرے جو یہ کہتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں دخل دینے کی خدا کو کیا ضرورت ہے۔مثلاً تھوکنا پیشاب کرنا وغیرہ ان میں خدا کا کیا دخل ہے۔اگر ان میں خدا کا دخل مانا جائے تو یہ ایک ہتک ہے۔ان دونوں گروہوں نے قرآن کریم کی جن آیات پر اپنے خیالات کی بنیاد رکھی ہے ان میں سے بعض کے متعلق اس وقت میں بیان کرتا ہوں تاکہ پتہ لگ جائے کہ ان کی بنیاد کیسی بودی ہے۔سکتا وہ جو یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ اس خیال کی تردید کہ ہر ایک فعل خدا ہی کراتا ہے انسان کرتا ہے وہ خدا ہی کراتا ہے اس میں انسان کا کچھ دخل نہیں ہوتا وہ اپنی تائید میں سورۃ صافات کی یہ آیت پیش کرتے ہیں۔والله خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الفت: ۹۷) کہ اللہ نے تم کو پیدا بھی کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی پیدا کیا ہے۔وہ کہتے ہیں جب