انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 542

دم جلدی ۵۴۴۲ تقدیر الهی۔ہمیں بھی خدا نے پیدا کیا اور ہمارے عمل کو بھی خدا نے پیدا کیا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ کر رہا ہے خدا ہی کر رہا ہے۔پھر کون ہے جو کہے کہ میں کچھ کرتا ہوں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس آیت نے اس مسئلہ کو ان کے خیال کے مطابق صاف طور پر حل کر دیا ہے۔لیکن در حقیقت انہوں نے وہی غلطی کھائی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اور وہ یہ کہ انہوں نے آیت کا ایک ٹکڑا لے لیا ہے اور دوسرے کو ساتھ نہیں ملایا۔اسی آیت سے پہلی آیت یہ ہے۔قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ (المقت:٩٦) عربی قاعدہ کے لحاظ سے ما کبھی فعل پر آکر اس کے معنی مصدر کے کر دیتا ہے اور کبھی وہ موصولہ ہوتا ہے جس کا ترجمہ اردو میں " جو " یادہ جو " کرتے ہیں جو لوگ وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُونَ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ اللہ نے تم کو بھی پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو بھی۔وہ اس جگہ مصدر کے معنی لیتے ہیں۔لیکن پہلی آیت سے ظاہر ہے کہ یہاں مصدر کے معنی نہیں کیونکہ پہلی آیت یہ ہے کہ قَالَ اتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ کو ملا کر پڑھا جائے اور اس کے یہ معنی کئے جائیں کہ ”حالا نکہ اللہ نے تم کو بھی پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو بھی۔" تو اس آیت کے معنی ہی کچھ نہیں بنتے۔اور دوسری آیت پہلی کو رد کر دیتی ہے۔کیونکہ پہلی آیت میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ تم کیوں اس چیز کو پوجتے ہو جسے خود خراد کر بناتے ہو۔اور دوسری میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھی اور تمہارے اعمال کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے۔اور یہ عبارت نہ صرف بے جوڑ ہے بلکہ الٹ ہے کیونکہ جب خدا نے ہی ان کے عمل پیدا کئے ہیں تو ان سے کیوں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتوں کو کیوں پوجتے ہو ؟ پس یہ معنی اس آیت کے ہو ہی نہیں سکتے۔بلکہ ان دونوں آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ کیا تم لوگ اس چیز کی پوجا کرتے ہو جس کو خود اپنے ہاتھ سے خراد تے ہو۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اس چیز کو بھی پیدا کیا ہے جسے تم بناتے ہو یعنی بتوں کو۔اور ”ا“ اپنے مابعد کے ساتھ جس طرح پہلی آیت میں مفعول کے معنوں میں ہے اسی طرح دوسری آیت میں بھی اور مَا عَمَلُكُمْ کے معنی مَعْمُولُكُمْ کے ہیں۔یعنی جو چیز تم بناتے ہو۔غرض اس آیت کے معنی ہی غلط کئے جاتے ہیں اور خود اس آیت سے پہلی آیت اس کے معنوں کو حل کر دیتی ہے۔اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں انسان کے اعمال کی پیدائش کا کہیں ذکر نہیں۔