انوارالعلوم (جلد 4) — Page 537
م جلد ۴ ۵۳۷ تقدیر الهی باتیں ہیں خواہ صحیح سمجھ کر قرب الی اللہ حاصل کرے خواہ غلط سمجھ کر تباہ و برباد ہو جاوے۔اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی بات تھی تو رسول کریم ال نے یہ کیوں فرمایا کہ اس مسئلہ پر بحث نہ کرو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا مطلب یہ نہ تھا کہ مطلق بحث نہ کرو۔بلکہ یہ کہ عقلی ڈھکوسلوں سے کام نہ لو بلکہ اس مسئلہ کو ہمیشہ شریعت کی روشنی میں دیکھو اور اگر آپ کا یہ مطلب نہ ہوتا تو ہم خود رسول کریم ﷺ کو اس مسئلہ کے متعلق مختلف اوقات میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے نہ پاتے۔آپ کا خود اس مسئلہ کی تشریح کرنا اور اس پر جو اعتراض وارد ہوتے ہیں ان کا جواب دیتا پھر قرآن کریم کا اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کرنا بتاتا ہے کہ جس بات سے منع کیا گیا ہے وہ اس مسئلہ کی تحقیق نہیں بلکہ اس مسئلہ کو شریعت کی مدد کے بغیر حل کرنا ہے۔اور یہ بات واقع میں ایسی خطرناک ہے کہ اس کا نتیجہ دہریت، بے دینی اور اباحت کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا۔قدر کا مسئلہ خدا تعالیٰ کی صفات سے تعلق رکھتا۔پس اگر کوئی اس مسئلہ کو حل کر سکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔خدا اور اس کے رسول کے سوا کسی کی طاقت اور مجال نہیں کہ اس مسئلہ کی حقیقت بیان کر سکے۔عقل اس میدان میں ایسی ہی بے بس ہے جیسے ایک چھ ماہ یا سال کا بچہ ایک خطرناک جنگل میں۔اس کو اس جنگل سے اگر کوئی چیز نکال سکتی ہے تو وہ شریعت کی رہبری ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ مسئلہ عقل میں تو آہی نہیں سکتا بلکہ میرا یہ منشاء ہے کہ عقل بلا شریعت کی رہبری کے اس مسئلہ کو نہیں سمجھ سکتی۔اللہ تعالیٰ کے بتانے پر اس کی ہدایت سے عقل اس مسئلہ کو خوب سمجھ سکتی ہے اور اگر عقل انسانی اس کو تب بھی سمجھ نہ سکتی تو اس پر ایمان لانے کا حکم بھی نہ ملتا۔جن لوگوں نے اس مسئلہ کو عقل کے ذریعہ حل کرنا چاہا ہے وہ بڑی بڑی خطرناک گمراہیوں کا شکار ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا باعث ہوئے ہیں۔چنانچہ ہندوؤں میں تناسخ کا مسئلہ تقدیر ہی کے نہ سمجھنے مسئلہ تقدیر کے نہ سمجھنے کا نتیجہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور عیسائیوں میں کفارہ کا مسئلہ اس کے نہ جاننے کی وجہ سے بنایا گیا۔اول تو رحم کا انکار کیا گیا اس کے نتیجہ میں کفارہ کا مسئلہ پیدا ہوا اور کفارہ کے نتیجہ میں امنیت اور شریعت کو لعنت قرار دینے کے مسائل پیدا ہوئے اور پھر لازمی طور پر اباحت کا مسئلہ پیدا ہوا۔اسی طرح قدر ہی کے مسئلہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کے موجودہ سائنس دانوں میں دہریت آئی۔پھر اسی کے نہ سمجھنے سے یہودیوں میں