انوارالعلوم (جلد 4) — Page 536
لوم جلد ۳ ۵۳۶ تقدیر الهی آپ کے منہ پر انار کے دانے توڑے گئے ہیں اور آپ نے فرمایا کہ کیا تم کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا؟ کیا خدا نے مجھے اسی غرض سے بھیجا تھا؟ تم سے پہلی قومیں صرف قضاء و قدر کے مسئلہ پر جھگڑا کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں۔میں تمہیں تاکید کرتا ہوں میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ اس امر میں جھگڑنا اور بحث کرنا چھوڑ دو۔کہتا تھا۔اسی طرح حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرہ کے پاس کوئی شخص آیا اور کہا کہ آپ کو فلاں شخص سلام کے آپ نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے اسلام میں کچھ بدعات نکالی ہیں۔اگر یہ درست ہے تو میری طرف سے اس کو سلام کا جواب نہ دینا کیونکہ میں نے رسول کریم سے سنا ہے کہ آپ کی امت میں سے بعض پر عذاب آئے گا اور یہ قدر پر بحث کرنے والے لوگ ہوں گے۔(ترمذی ابواب القدر باب ما جاء في الرضاعبا لقضاء) ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قدر کا مسئلہ ایک مشکل مسئلہ ہے جس پر بحث کرنے پر سلب ایمان کا خطرہ ہے بلکہ رسول کریم ﷺ نے پیشگوئی کی ہے کہ اس امت میں سے ایک جماعت پر اسی سبب سے عذاب آوے گا۔مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس مسئلہ پر ایمان لانے کی بھی بڑی سختی سے تاکید کی گئی ہے اور اس کے نہ ماننے والے کو کافر قرار دیا گیا ہے اور کسی مسئلہ پر ایمان اسے سمجھے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ میں نے کس بات کو ماننا ہے وہ مانے گا کیا؟ اور ایسی بات کے منوانے سے جس کو انسان سمجھے نہیں فائدہ ہی کیا ہو سکتا ہے؟ پس مسئلہ تقدیر کے متعلق ہمیں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ شریعت نے جب اس مسئلہ میں جھگڑنے سے منع کیا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟ اور جب اس پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ تا ایسا نہ ہو کہ بے احتیاطی کے نتیجہ میں ہلاکت اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے۔یہ مسئلہ در حقیقت ایک دینوی پل صراط ہے کہ اگر اس پر قدم نہ رکھے تو جنت سے محروم رہ جاتا ہے اور اگر رکھے تو ڈر ہے کہ کٹ کر دوزخ کے تہہ خانے میں نہ جا پڑے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح پل صراط پر قدم رکھے بغیر تو کوئی انسان جنت میں جاہی نہیں سکتا اور اس پر چلنے میں دونوں امکان ہیں گر جائے یا بچ جاوے۔اسی طرح مسئلہ تقدیر کا حال ہے اس کو نہ سمجھے تو ایمان بالکل جاتا رہتا ہے اور اگر اس پر بحث کرے تو دونوں