انوارالعلوم (جلد 4) — Page 492
۴۹۲ خطاب جلسہ سالانہ کے جو نمبر ۱۹۱۹ء الرائے نہیں ہیں۔حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ حضرت صاحب نے اپنی کتاب نور الحق میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اہل الرائے لوگوں کو میری جماعت میں داخل کر دیا ہے۔حیرت ہے کہ حضرت صاحب کے نزدیک تو جو آپ کی طرف آتا ہے وہ اہل الرائے ہے مگر خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ یہ جاہلوں اور اجڈوں کی جماعت ہے۔پھر وہ ہماری جماعت کو انسان خواجہ صاحب کی طرف سے انسان پرستی کا الزام پرست کہتے ہیں میں مانتا ہوں کہ انسان پرستی بہت بری بات ہے اور یہ شرک ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں کیا خدا تعالیٰ نے صرف انسان پرستی سے ہی منع کیا ہے اور زر پرستی کثرت پرستی، سوسائٹی پرستی سے منع نہیں کیا؟ حیرت ہے کہ وہی خواجہ صاحب جو ہم پر انسان پرستی کا الزام لگاتے ہیں خود زر پرستی کے پیچھے دوسرے لوگوں سے چندہ حاصل کرنے کی غرض سے اور غیر لوگوں سے علیحدہ ہونے کے خوف سے جماعت احمدیہ کو چھوڑتے ہیں۔کیا یہ باتیں بری نہیں ہیں؟ یہ تو بے شک بری بات ہے کہ کسی شخص کو اس لئے مانا جائے کہ وہ کسی بڑے انسان کی اولاد ہے۔مگر کیا بڑے بزرگ اور خدا رسیدہ انسان کی اولاد ہونا کوئی لعنت ہے؟ اگر ان لوگوں کے نزدیک حضرت صاحب کی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ ماننا جہالت ہے تو گویا کسی برگزیدہ خدا کی اولاد ہونا ان کے نزدیک لعنت ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ بڑے بڑے بد کار جو لوگ گزرے ہیں وہ کن کی اولاد میں سے تھے ؟ فرعون نمرود اور شداد کسی نبی کے بیٹے پوتے یا پڑ پوتے تھے۔اور ابو جہل، عتبہ شیبہ کون سے نبی کے پوتے پڑپوتے تھے ؟ کوئی ایک بھی انبیاء اور بزرگوں کا ایسا دشمن جو دنیا کے ہلاک کرنے والا اور اہل دنیا کے لئے مملک اور مغوی ہو تو دکھایا نہیں جا سکتا۔جو کسی نبی کی قریب اولاد میں سے ہوا ہو۔خود گمراہ اور بے دین ہونا اور بات ہے۔حضرت نوح کے لڑکے کا خدا تعالٰی نے ذکر کیا ہے۔اس کے متعلق اول تو یہی جھگڑا ہے کہ وہ ان کا بیٹا تھا یا نہیں۔مگر پھر بھی وہ دوسروں کے لئے مہلک اور مغوی نہیں تھا خود گمراہ تھا۔تو ہم کہتے ہیں کسی کو اس لئے مانا کہ وہ بڑے آدمی کی اولاد ہے کم عقلی ہے۔مگر جس کو خدا تعالی بزرگی دے دے اس کو اس لئے نہ ماننا کہ وہ کسی بڑے انسان کی اولاد ہے یہ بھی کم عقلی ہے۔بہر حال دونوں طرح بات برابر ہے اب ان کی جو مرضی ہو کہیں مگر ان کا فلسفہ درست نہیں ہے اور اس کا نتیجہ وہ دیکھ رہے ہیں اور آئندہ دیکھیں گے۔ان کے گھروں میں اولاد موجود ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کی اولادوں کو اس وقت