انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 493

انوار العلوم جلدم - ۹۳ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲ دسمبر ۱۹۱۹ء نک دین کے حاصل کرنے کی توفیق نہیں دی۔اور اس کی وجہ صاف ہے کہ چونکہ انہوں نے ہم سے اس لئے دشمنی کی ہے کہ ہم اس بڑے انسان کی اولاد ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے بڑا بنایا۔اس کے بدلہ میں خدا تعالٰی نے ان کے گھروں میں یہ بات پیدا کر دی۔اب میں اس مضمون کی طرف آتا سالانہ جلسہ پر مضمون بیان کرنے کی ترتیب ہوں جو آج میرا اصل مضمون ہے۔لیکن اس کے بیان کرنے سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک جو میرے عہد میں جلسے ہوئے ہیں ان پر میری عادت رہی ہے کہ میں ایک دن کوئی علمی مضمون بیان کیا کرتا ہوں اور ایک دن جماعت کی مختلف ضروریات کے متعلق بولتا رہا ہوں۔پہلے دن عام نصائح بیان کی جاتی رہی ہیں اور دوسرے دن علمی مضمون۔سوائے پچھلے سالانہ جلسہ کے۔اس سال بھی میرا ارادہ ہے کہ آج عام ضروریات کے متعلق بیان کروں۔اور کل وہ علمی مضمون جس کے متعلق اس دفعہ کچھ بیان کرنے کا ارادہ ہے۔انشاء اللہ۔اس دفعہ بیان کرنے کے لئے میں نے ایک ایسا مضمون علمی مضمون کے متعلق اطلاع منتخب کیا ہے کہ جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بیان کرنے کی نہایت اشد ضرورت ہے۔اب تک میں جو مضمون بیان کرتا رہا ہوں وہ اعمال کے متعلق تھے۔مگر اب کے جو مضمون بیان کرتا ہے وہ ایمان کے متعلق ہے۔اور چونکہ ایمان ہی جڑ ہے اس لئے وہ مضمون نہایت اہم ہے۔میں نے اس مضمون کے انتخاب کرنے کے متعلق اس وقت اس لئے سنایا ہے کہ کئی لوگ دوسرے دن بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ایسا نہ کریں۔اس مضمون کے بیان کرنے کے لئے میرے دل میں بہت خوف اور ڈر پیدا ہوا۔اور اس کے لئے میں نے اتنی دعا کی کہ آج تک اور کسی مضمون کے بیان کرنے کے لئے نہیں کی۔میں نے خدا تعالیٰ سے عاجزانہ طور پر کہا کہ اے خدا اگر اس مضمون کا سنانا مناسب نہیں تو میرے دل میں ڈال دے کہ میں اسے نہ سناؤں۔لیکن مجھے یہی تحریک ہوئی ہے کہ سناؤں۔اس لئے کل انشاء اللہ سنایا جائے گا۔گو وہ مضمون مشکل ہے اور اس کے سمجھنے کے لئے بہت محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔لیکن اگر آپ لوگ اسے سمجھ لیں گے تو بہت بڑا فائدہ اٹھائیں گے۔