انوارالعلوم (جلد 4) — Page 486
انوار العلوم جلد ۸۶ خطاب جلسہ سالانہ کے ۱۲ کمبر ۱۹۱۹ء سے کٹ جائے۔" اس عہد پر حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کی نسل میں اس عہد کی خلاف ورزی عمل ہو تا رہا۔مگر اس کے خلاف رومیوں باب ۳ آیت ۳۰ (برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء میں لکھا ہے۔کہ ایک ہی خدا ہے۔جو مختونوں کو بھی ایمان سے اور نا مختونوں کو بھی ایمان ہی کے وسیلہ سے راست باز ٹھہرائے گا۔" اس سے تو اتناہی معلوم ہوتا ہے کہ مختون اور نا مختون مساوی ہیں۔اور اگر ختنہ نہ کرایا جائے تو کوئی حرج نہیں۔لیکن پھر کہا گیا ہے کہ۔" پس کیا یہ مبارک بادی مختونوں ہی کے لئے ہے یا نا مختونوں کے لئے بھی؟ کیونکہ ہمارا دعوئی یہ ہے کہ ابراہیم کے لئے اس کا ایمان راست بازی گنا گیا۔پس کس حالت میں گنا گیا؟ مختونی میں یا نا مختونی میں؟ مختونی میں نہیں بلکہ نا مختونی میں۔" (رومیوں باب ۴۔آیت ۱۰۹ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء) گویا اس طرح یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ نامخنتونی کی حالت مختونی کی حالت سے اچھی ہے۔کیونکہ ابراہیم کے لئے اس کا ایمان اور راست بازی نامختونی کی حالت میں ہی گئی گئی۔تو معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم سے خدا تعالٰی نے یہ عہد لیا تھا کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے۔مگر حضرت مسیح کے ماننے کا دعوی کرنے والوں میں سے ایک شخص جس نے دوسری قوموں میں عیسائیت کی اشاعت کی وہ کہتا ہے کہ نا مختونی بہتر ہے۔اور اس کے لئے جو دلیل دیتا ہے اس کے سمجھنے کے لئے خاص ہی قسم کے دماغ کی ضرورت ہے۔کیونکہ یہ ایسی ہی بات ہے۔جیسے کوئی ٹھوکر کھا کر چارپائی پر بیٹھ جائے تو کہے کہ ٹھو کر چار پائی سے اچھی ہے۔یا تو ادھر اُدھر بھولا پھرنے کے بعد اسے کوئی دوست مل جاوے تو کہے کہ چونکہ دوست کا ملنا ایک نعمت ہے اور یہ بھولنے پر ملی ہے اس لئے بھولنا اچھا ہے۔تو یہ دلیل جو کچھ ہے وہ تو ہے ہی۔مگر اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی نسل میں خدا تعالی کی طرف سے جو انعام کی علامت مقرر کی گئی تھی اس کو اس نے مٹادیا اور عیسائیوں میں اس کا نام ونشان نہ رہنے دیا۔مگر جس طرح حضرت مسیح موعود کے حواری رسم ختنہ کو جاری کریں گے حضرت مسیح موعود