انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 460

انوار العلوم جلد ۴ ۴۶۰ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے پھر لوٹنے کی امید نہ ہو تب وطن کی محبت کا حال معلوم ہوتا ہے بچوں تک کو دیکھو اپنے والدین سے لڑتے ہیں کہ ان کو سیر کرائی جائے لیکن کسی کو یوں پکڑ کر دوسری جگہ لے جاؤ تو کس قدر اس کو رنج پہنچتا ہے۔تو حقیقی استقامت ، اصل ایمان بچی بہادری کا پتہ تب ہی لگتا ہے جب مقابلہ ہو۔عموماً لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ بڑے بہادر ہیں اور جب وہ اخبارات میں پڑھیں کہ کوئی فوج بھاگ گئی تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ اس قدر بزدل آدمی بھی ہوتے ہیں جو میدان مقابلہ سے بھاگ جاتے ہیں۔لیکن ان ہی لوگوں کو میدان جنگ میں لے جاؤ ان میں سے ستر اتنی فیصدی بزدل ثابت ہوں گے۔عموما فوجیں اپنی ہی گولہ باری سے ڈر کر لڑتی ہیں ورنہ ایک بڑی تعداد میدان جنگ سے بھاگ جاوے: میں نے ایک دفعہ ایک سپاہی سے دریافت کیا کہ آج کل فوجوں میں بہادری کا کیا حال ہے اس نے کہا کہ ہم بہادری کو نہیں جانتے۔ہمارے پیچھے توپ خانہ ہوتا ہے اور آگے دشمن کی فوج اگر بلا حکم پیچھے ہیں تو اپنے ہی توپ خانہ کا نشانہ بنتے ہیں۔اس لئے یہ خیال کر کے کہ بلا حکم پیچھے ہے تب اپنوں کے ہاتھوں سے مارے جاویں گے اس لئے بہتر ہے کہ دشمن سے ہی لڑیں تا مریں تو دشمن کے ہاتھ سے مریں اور اگر بچ جاویں تو انعام پاویں۔پھر بعض اقوام اسی لئے لڑنے والوں کو شراب پلا کر میدان میں بھیجتی ہیں اور سکھوں میں بھی یہی رواج تھا بلکہ سوائے مسلمانوں کے سب قوموں میں یہی طریق رائج رہا ہے۔شراب پلانے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ بزدلانہ خیالات دل میں نہ آنے پاویں۔غرض حقیقی بہادر بہت کم لوگ ہوتے ہیں لیکن خیال سب لوگ ہی کر لیتے ہیں کہ ہم بہادر ہیں اور جب تک تجربہ کا موقع نہیں آتا یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ درست ہے مگر جب وہ مواقع سامنے آتے ہیں تو ان کو اپنے فیصلہ پر پچھتانا پڑتا ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ بہادر ہیں مگر موقع پر ان پر اپنی غلطی کھل جاتی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہیں کسی سے محبت ہے اور واقع میں وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا سینہ مثلاً اولاد کی محبت سے معمور ہے مگر جب کوئی موقع پڑتا ہے تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ اصلی محبت نہ تھی صرف ایک نفس کا دھوکا تھا۔یورپ کے بعض واقعات میں نے پڑھے ہیں کہ بعض تھیٹروں میں تماشہ کے وقت آگ لگی تو کئی مائیں اپنے بچوں سے کئی بھائی اپنے بھائیوں سے کئی خاوند اپنی بیویوں سے اور کئی بیویاں اپنے خاوندوں کو دھکے دیتے ہوئے اپنی جانوں کے بچانے کے لئے دروازہ کی طرف بھاگے حالانکہ اس گھبراہٹ سے اور بھی زیادہ