انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 451

انوار العلوم جلدم ۴۵۱ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض ایک سرے سے دوسرے میرے تک وہاں کے باشندوں کو اسلام کی تعلیم سے آگاہ کریں۔گو وہ تو فورا اس کو قبول نہیں کر سکتے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جلد اسلام کی دشمنی سے دست بردار ہو جاویں گے۔مت اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ ایسے آدمی کہاں سے آدیں۔سو اس کا جواب میرے سوا اور کوئی نہیں دے سکتا۔حق چھپایا نہیں جا سکتا۔اس وقت دنیا کی تباہی کو دیکھ کر اور اسلام کی موت کو مشاہدہ کر کے خدا تعالٰی نے رسول کریم ﷺ کے وعدہ کے مطابق اپنا ایک مرسل بھیجا ہے۔جس نے باوجود ناواقفوں کی مخالفت اور دشمنی کے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے اسلام کے لئے فدا ہے۔اور اس کے انگریزی خوان اور عربی خوان افراد دونوں اسلام کے اصول سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس پر عملی طور پر کار بند بھی ہیں۔اور اسلام کی خد میں اپنی جانیں دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔وہ تعداد میں ابھی بہت تھوڑے ہیں اور غریب ہیں۔مگر اب بھی مختلف بلاد میں ان کی طرف سے اسلام کی تبلیغ کے لئے آدمی مقرر ہیں۔اور ان کے سامنے مسیحی مشنری ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں ٹھرتے۔اور خود ان کے دشمن اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ مسیحی مشنریوں کے بھگانے کے لئے وہ ایک حربہ ہیں۔اور کیوں نہ ہو انہوں نے اسلام کو اس کی اصل شکل میں دیکھا اور سمجھا ہے۔انگلستان میں اس وقت اس جماعت کی طرف سے چار آدمی موجود ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ بہت جلد وہاں پچاس تک آدمی بھیج دیئے جاویں۔جب راستہ کی رکاوٹیں دور ہوں یہ لوگ روانہ ہونے شروع ہو جاویں گے۔غرض اس جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کام کر سکتے ہیں اور جو اسلام سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے ہر ایک جگہ جانے کے لئے تیار ہیں۔اور میں ایسے آدمیوں کی ایک معقول تعداد اس کام کے لئے مہیا کر سکتا ہوں۔اگر آپ لوگ سنجیدگی سے اس کام پر آمادہ ہوں تو لندن کے چار مشنریوں میں سے کم سے کم تین فورا میں امریکہ کے لئے فارغ کر سکتا ہوں۔یہ لوگ فوراً امریکہ روانہ ہو جائیں اور اسلام سے وہاں کے لوگوں کو واقف کریں اور ساتھ اس امر کی طرف بھی توجہ دلائیں کہ ترکوں سے جو سلوک ہو رہا ہے وہ درست نہیں۔اور اس طرح میں اور آدمی بھی دے سکتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اپنی اصلی شان میں نظر نہیں آسکتا جب تک وہ اس طرح لوگوں کے سامنے پیش نہ کیا جائے جس طرح اس زمانہ کے مصلح نے اسے پیش کیا ہے۔اور اس