انوارالعلوم (جلد 4) — Page 438
انوار العلوم جلد ۴ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض ماہروں سے مشورہ لیتے ہیں آسانی سے فیصلہ نہیں کر سکتے اور ایک ایک سوال کے حل کرنے پر مہینوں لگا دیتے ہیں۔تو سیاسی نقطہ خیال سے بے تعلق ایک دوسرے مذہب کی پیرو ایک دوسری تہذیب کی دلدادہ دنیاوی طور پر کمزور اور ناتواں جماعت کی کمزور آواز کو مفید اور بااثر بنانے کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی ضرورت ہے ؟ اگر اس جلسہ کے منعقد کرنے والے اور اس میں شمولیت کرنے والے اس محنت کی برداشت کی طاقت رکھتے ہیں اور اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے بخوشی دل تیار ہیں۔تو پھر یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اس کام کے سرانجام دینے کا ذریعہ کیا ہے؟ اس تیرے امر کے متعلق جو کچھ میری رائے ہے اور جس کی پابند تمام جماعت احمد یہ ہے وہ تمام احباب کرام کے غور کے لئے ذیل میں درج کر دیتا ہوں۔میرے نزدیک اس کام کے لئے سعی کرنے سے پہلے مسلمانوں کو اس امر کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ترکوں کے مستقبل کے متعلق فیصلہ جن طاقتوں نے کرنا ہے۔ان میں سے صرف حکومت برطانیہ ہی ایک ایسی طاقت ہے جسے ترکوں کے مفاد سے دلچسپی ہے۔اور جو ان کی ایک حد تک مدد کرنا چاہتی ہے۔اور جس کے وزراء نہایت محنت سے ان خیالات سے جو ترکوں کے مستقبل کے متعلق مسلمانوں کے دلوں میں موجزن ہیں صلح کی کانفرنس کو مطلع کر رہے ہیں۔حکومت حجاز کی تائید اور نصرت بھی صلح کی کانفرنس میں حکومت برطانیہ ہی کر رہی ہے۔اور اس کا اعتراف حکومت حجاز کا نیم سرکاری اخبار " قبلہ " کئی بار کر چکا ہے۔پس اپنے تمام اعمال میں مسلمانوں کو برطانیہ کے اس احسان کو یہ نظر رکھنا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے جوش میں اس دوست کو بھی اپنے ہاتھوں سے کھو دیں۔اور احسان فراموشی کے جرم کے مرتکب ہوں۔حکومت برطانیہ مسلمان نہیں کہ مذہباً وہ ترکوں کی ہمدرد ہو۔نہ سیاسی طور پر ترکوں کی تباہی اس کے مفاد پر کوئی اثر ڈال سکتی ہے کیونکہ اس نے ترکوں سے جنگ کر کے دیکھ لیا ہے کہ چین اسلامزم کا خطرہ ایک خیالی خطرہ ہے۔وہ اگر ترکوں سے ہمدردی رکھتی ہے تو محض اپنی مسلمان رعایا کے جذبات اور احساسات کے خیال سے۔پس جس قدر بھی وہ ہمدردی کرتی ہے مسلمانوں کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔اور ایک دوست کے طور پر اس کی قدر کرنی چاہئے۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ایک طرف حکومت برطانیہ پر یہ فرض ہے کہ وہ ہمارے احساسات کا خیال رکھے تو دوسری طرف حکومت برطانیہ پر ان دوسری اقوام کے احساسات کا