انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 439

العلوم جلد م ٤٣٩ ترکی کا مستقبل لمانوں کا فرض خیال رکھنا بھی فرض ہے جو جنگ میں اس کے ساتھ شامل ہوئیں۔اور جن کے سپاہی برطانیہ کے سپاہیوں کے دوش بدوش اسی طرح لڑے جس طرح مسلمان سپاہی بلکہ مسلمانوں سے بھی زیادہ تعداد میں۔اور اس جنگ کو فاتحانہ رنگ میں ختم کرنے کے لئے انہوں نے اپنے اموال اس سے بہت زیادہ خرچ کئے جس قدر کہ مسلمانوں نے۔پس مسلمانوں کے احساسات کا خیال رکھنے کے ساتھ حکومت برطانیہ اگر ضروری سمجھتی ہے کہ ان اقوام کے خیالات کا خیال بھی رکھے تو ہمیں اس کی مجبوری کو سمجھنا چاہئے۔اور اس کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس جنگ کے ابتدائی ایام میں امریکہ کے شامل ہونے سے پہلے اتحادیوں میں بعض معاہدات ہوئے تھے۔جن کے پورا کرنے پر بعض طاقتیں برطانیہ پر زور دیتی ہیں اور اس مشکل کی وجہ سے بھی برطانیہ اس طرح سے مسلمانوں کے خیالات کی ترجمانی نہیں کر سکتا جس طرح کہ مسلمان اس سے امید رکھتے ہیں۔پس اس کام کے شروع کرتے وقت اس امر کا فیصلہ کر لینا چاہئے کہ نہ تو کوئی ایسا ایجی ٹیشن پھیلایا جاوے اور نہ دوسروں کو پھیلانے کی اجازت دی جاوے جن میں لوگوں کے ذہن میں یہ بات آوے کہ برطانیہ مسلمانوں کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں کرتا اور ان کے حقوق کی کافی حفاظت سے غافل ہے کیونکہ غفلت اور لاپرواہی بالکل اور چیز ہیں اور مشکلات اور چیز۔مسلمانوں کی تمام کوششیں برطانیہ کا ہاتھ مضبوط کرنے میں خرچ ہونی چاہئیں نہ کہ اس کو گھر میں مشکل ڈال دینے میں۔اس بات کو خاص طور پر یاد رکھنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ بعض خود غرض لوگ ایسے موقعوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے عادی ہوتے ہیں۔اور التجاء کو دھمکی اور مخلصانہ اصرار کو معاندانہ دباؤ سے بدل دیتے ہیں۔میرے نزدیک برطانیہ جب کہ پہلے ہی مسلمانوں کے احساسات کی ترجمانی کر رہا ہے تو اس کی اس کوشش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کو صرف اس سے یہ درخواست کرنی چاہئے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ زور دے۔بے شک بعض معاہدات اس کے راستہ میں روک ہیں۔مگر ہر انصاف پسند برطانوی مد تبر پر یہ بات واضح کر دینی چاہئے کہ ایسے معاہدات جن میں کوئی اخلاقی نقص ہو معاہدات کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر اس غلطی پر مصر ہونا انسان کا کام نہیں۔اگر کوئی شخص کسی کو ایک چیز دینے کا معاہدہ کرتا ہے اور بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کا مال نہیں ہے تو وہ اس معاہدہ کا پابند رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔نہ اخلاق اسے اس معاہدہ کی پابندی کرنے کی کوشش کرنی