انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 412

م جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷۔صداقت پر گواہ کے طور پر اس وقت گل مخالفین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔وہ اس مضمون کا آخری حصہ ہے جس کو میں نے صاحبزادہ کے اپنے الفاظ میں نقل کیا ہے۔اس وقت صاحبزادہ کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے۔اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہو گا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ ولی جوش ان کا ظاہر ہو جاتا ہے۔چنانچہ ابھی میر محمد اسحاق کے نکاح کی تقریب پر چند اشعار انہوں نے لکھے تو ان میں یہی دعا ہے کہ اے خدا تو ان دونوں اور ان کی اولاد کو خادم دین بنا۔برخوردار عبدالحی کی آمین کی تقریب پر اشعار لکھے۔تو ان میں یہی دعا بار بار کی ہے کہ اسے قرآن کا سچا خادم بنا۔ایک اٹھارہ برس کے نوجوان کے دل میں اس جوش اور ان امنگوں کا بھر جانا معمولی امر نہیں۔کیونکہ یہ زمانہ سب سے بڑھ کر کھیل کود کا زمانہ ہے۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں۔اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا۔جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا۔نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی - ریویو مارچ ۱۹۰۶ء جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۱۱۸٬۱۱۷) یہ ریویو مولوی محمد علی صاحب نے اپنی قلم سے لکھا۔عجیب بات ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں مولوی محمد حسین صاحب نے ریویو لکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔اسی طرح میرے مقابلہ میں مولوی محمد علی صاب نے میرے اس مضمون پر ریویو لکھ کر جس میں مسیح موعود کو نبی لکھا گیا تھا اپنے ہاتھ کاٹ لئے ہیں۔پھر جب حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد میں نے "صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے " کے نام سے ایک کتاب لکھی۔تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ مولوی صاحب مسیح موعود کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراض کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی۔مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے۔پھر یہی کتاب حضرت مولوی صاحب نے بذریعہ رجسٹری، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھیجی۔وہ کیوں ؟ محمد حسین صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب کی اولاد اچھی نہیں ہے۔اس لئے یہ کتاب بھیج کر حضرت مولوی صاحب نے ان کو