انوارالعلوم (جلد 4) — Page 409
ر العلوم جلد ۴ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء کے پریزیڈنٹ جس کا سب انتظامی کام دوسرے لوگوں کے سپرد ہے۔پھر ان کے کام ہی کون سے ہے۔ہیں۔چند سو آدمیوں سے تعلقات ہیں۔لیکن ہماری لاکھوں کی جماعت ہے۔بعض دن تو میرے کئی کئی گھنٹے خطوط پڑھنے اور ان کے جواب لکھانے ہی میں صرف ہو جاتے ہیں۔پھر مجھے خود نماز پڑھانی ہوتی ہے لیکن مولوی محمد علی صاحب تو گھر پر ہی نماز پڑھ لینے میں کچھ حرج نہیں محسوس کرتے پھر یہاں کے بہت سے کام میرے مشورہ سے ہوتے ہیں اسی طرح جماعت کی ترقی کے لئے غور کرنے اور اس کے لئے دعا کرنے پر بہت سا وقت صرف ہوتا ہے۔اس لئے مجھے وقت ہی نہیں مل سکتا کہ ان کی ہر ایک بات کا خود جواب لکھتا رہوں۔اس لئے اس شرط کا یہ مطلب ہوا کہ وہ لکھتے رہیں اور ہماری طرف سے کوئی جواب نہ شائع ہو۔غرض یہ شرطیں عجیب رنگ رکھتی ہیں۔مگر جیسا کہ کسی نے کہا ہے پھر من رنگے کہ خوای جامه پوش انداز تدت را شناسم ย ہم ان کی باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ہمارا اور ان کا اختلاف کوئی معمولی اختلاف نہیں۔بلکہ بہت بڑا اختلاف ہے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ کے اختلاف سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب معاویہ نے خط لکھا کہ میں آپ کی زیارت کے لئے آنا چاہتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ زیارت اسی طرح ہو سکتی ہے کہ یا میں تمہارے پاس آؤں یا تم میرے پاس آؤ اگر میں آیا تو لشکر سمیت آؤں گا۔اور اگر تم آئے تو تلوار تمہارا مقابلہ کرے گی۔کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس اختلاف کو مذہبی اختلاف سمجھتے تھے اور معاویہ کو اس کا بانی اور ان کے ساتھ صلح کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔پس ہم کو تو ان سے زیادہ اختلاف ہے۔اور معاویہ سے زیادہ انہوں نے امت اسلامیہ میں شقاق پیدا کیا ہے۔پس جب تک اس شقاق کو یہ لوگ دور نہ کریں ان سے صلح ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ غیروں کے ساتھ صلح ہو سکتی ہے۔لیکن ان اپنوں سے جو معاند ہوں اور مفسد ہوں اس وقت تک صلح نہیں ہو سکتی جب تک وہ فساد نہ ترک کریں۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر اپنے جوش نکالیں اور منصوبے پکا ئیں۔لیکن چونکہ اس قسم کے تجربے ہم سے پہلے لوگ کر کے نقصان اٹھا چکے ہیں۔اس لئے ہم تجربہ کرنا نہیں چاہتے۔بے شک ہمیں یہ منظور ہے کہ سخت کلامی نہ ہو کیونکہ سخت کلامی شرفاء کا کام نہیں اور