انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 341

انوار العلوم جلد ۴ اسم سم عرفان الهی قرآن میں درج ہے اس کے اخذ کرنے میں ابھی بڑی کوشش اور سعی کی ضرورت ہے۔اس وقت جب کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ میری آخری گھڑیاں ہیں میرے دل میں اگر کوئی خلش تھی تو وہ یہی تھی کہ ابھی تک ہماری جماعت اس مقام پر نہیں پہنچی جس پر پہنچانے کی حضرت مسیح موعود کو خواہش تھی۔اس کے لئے میں نے اس گھڑی میں جو آخری سمجھی جاتی تھی دعا کی کہ الہی اس مصیبت کو ٹال دے اور ہماری جماعت کو وہ نور اور معرفت عطا کر جس سے ہمیشہ تیرے پاک بندے مخصوص رہے ہیں۔میرے مولا نے میری اس وقت کی دعا قبول کر لی اور مجھے ہی موقع دے دیا کہ آپ لوگوں کو آپ کے فرائض کی طرف متوجہ کروں۔اور پھر اس بات کا موقع دیا کہ آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلاؤں کہ آپ کو کس مقصد مدعا اور غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور کس طرف خدا کا رسول تمہیں لے جانا چاہتا تھا۔اس مضمون کے متعلق جو آج میں بیان کرنے والا ہوں گذشتہ سال میں نے کچھ تقریر میں شروع کی تھیں۔جس کا مدعا اور مقصد یہ تھا کہ بتایا جائے کہ معرفتِ الہی اور عرفان الہی کسی طرح حاصل ہو سکتا ہے مگر وہ تقریر میں درمیان میں ہی رہ گئیں۔ابھی صرف چار خطبے بیان کئے تھے کہ طبیعت خراب ہو گئی اور مجھے بہت سا عرصہ قادیان سے باہر رہنا پڑا۔باہر سے آکر پھر بیماری کا دورہ ہوا اور یہ مضمون تعویق میں پڑ گیا۔اول تو وہ مضمون ہی نامکمل رہا اور اگر مکمل بھی ہو جاتا تو یہ کوئی ضروری نہیں کہ دوبارہ بیان نہ کیا جائے۔کیونکہ دوبارہ بیان کرنے کی اس وقت ضرورت نہیں رہتی جب اس پر عمل شروع ہو جائے۔اور جب تک نہ ہو اس وقت تک ضرورت باقی رہتی ہے۔پس جب تک لوگ عمل کرنے نہ لگ جائیں ضروری ہے کہ اسے بیان کیا جائے۔میں نے بتایا ہے کہ میں اس وقت زیاد دیر نہیں بول سکتا۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر مختصری الفاظ میں ہی یہ پیغام پہنچا دونگا تو خدا تعالیٰ کے حضور اپنے فرض سے بری ہو جاؤنگا اور کہہ سکوں گا کہ میں نے انہیں پیغام پہنچا دیا تھا۔آگے اگر انہوں نے عمل نہیں کیا تو یہ ان کا قصور ہے میرا نہیں۔پس میں آج اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤ نگا اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔عرفان الہی ایک ایسا اہم اور ضروری مسئلہ ہے کہ کوئی شخص اس کی ضرورت سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔بلکہ ہر ایک کو اس کی ضرورت ہے بہت لوگ ایسے ہیں جو شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں وہ لطف اور سرور حاصل نہیں ہو تا جو ایمان کا نتیجہ ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم نمازیں پڑھتے