انوارالعلوم (جلد 4) — Page 340
۳۴۰۰ عرفان التی اور ابھی تک طبیعت بہت کمزور ہے۔اس لئے میں اس وقت اپنے آپ کو اس قابل نہیں پاتا کہ جس طرح پہلے جلسوں میں چار پانچ چھ گھنٹے مسلسل مضمون بیان کیا کرتا تھا اسی طرح آج دو تین گھنٹے بھی بیان کر سکوں۔دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ شاید میری آواز بھی سب تک نہ پہنچ سکے۔میں کوشش کرونگا کہ جہاں تک خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے بلند آواز سے بولوں تاکہ سب کو پہنچ جائے۔لیکن اگر کسی تک نہ پہنچ سکے تو وہ اسے خدا تعالی کی حکمت کے ماتحت سمجھے۔خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے کوئی بات سنواتا ہے اور جس کو چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔اور اس کی مرضی اور منشاء کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور ہر ایک انسان کو چاہئے کہ اپنی مرضی کو اس کی مرضی کے ماتحت کر دے۔پس میں کوشش کرونگا کہ اس مضمون سے آپ لوگوں کو آگاہ کروں جو آج کے لئے منتخب کیا گیا ہے آگے جو خدا کی مرضی۔میں نے پچھلے جلسوں پر ذکر الہی" اور "حقیقۃ الرؤیا" کے متعلق آپ لوگوں کو ان تحقیقات سے واقف کیا تھا جو مجھے ان کے متعلق ہے۔لیکن آج ایک ایسے اہم مضمون کے متعلق بولنا چاہتا ہوں کہ جس کا جاننا ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے۔اور اس قدر ضروری ہے کہ اس کے جانے بغیر کوئی نجات کا امیدوار ہی نہیں ہو سکتا۔میرے پہلے لیکچر فروعی اور اجزاء کے متعلق تھے۔لیکن آج کا لیکچر کلی اور اصلی معاملہ کے متعلق ہے۔اور میں افسوس کرتا ہوں کہ اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے ایسی حالت اور ایسے وقت میں کھڑا ہوا ہوں کہ مجھے طاقت نہیں ہے کہ تفصیل کے ساتھ سنا سکوں۔اس وقت بھی لوگوں کے ملنے کی کوفت اور گردو غبار کی وجہ سے میرے سر میں ایسا شدید درد ہے کہ باوجود اس کے کہ دوا کھا کے آیا ہوں ذرا سر ہلا تا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا پھٹنے لگا ہے۔لیکن اگر اللہ نے چاہا تو میں اس پیغام کو جو میرے نزدیک ہر ایک مسلمان کے لئے پہلا اور آخری پیغام ہے پہنچانے کی کوشش کرونگا۔پچھلے دنوں جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے میں سخت بیمار رہا ہوں۔اس بیماری میں مجھے چھ چھ گھنٹے ضعف دل کے دورے ہوتے رہے ہیں۔اس حالت میں میرے قلب پر ایک خاص اثر ہوا جس کے ماتحت میں ایک ایسی بات بیان کرنا چاہتا ہوں جو میرے لئے بھی اور آپ کے لئے بھی نہایت ضروری ہے۔اس وقت میں نے خیال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہم پر بڑے بڑے احسان کئے ہیں۔اور ایک تاریک گڑھے سے نکال کر نور کے مینار پر بٹھا دیا ہے۔مگر باوجود اس کے وہ تعلیم جو آپ لوگوں کو دینا چاہتے تھے اور جو