انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 8

A کئے جائیں گے کہ جو تم پر حاکم ہو ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔یہاں خدا نے مِنكُمُ فرما کر ایک اور فتنہ کی جڑ کاٹ دی ہے اور وہ اس طرح کہ مِنْكُم سے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ جو تم پر بادشاہ ہو۔اس کی اطاعت کرو نہ کہ ہر ایک بادشاہ جو تمہیں کوئی حکم دے اسے مان لو۔اس سے دوسروں کی زبر دستی کی حکومت اور ان کی بات مان کر اپنے بادشاہ سے غداری کرنے کو روک دیا گیا کہ اگر کوئی غیر بادشاہ تمہیں کچھ کہے تو اس کا ماننا تم پر فرض نہیں ہے۔اس طرح بھی بہت سے فساد اور فتنے مٹ جاتے ہیں۔خیر میں نے بتایا کہ اس آیت میں اطاعت حکام کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ شرط یہ رکھی ہے کہ جب تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام ماننے میں آزادی ہو تو تم پر اطاعت حکام فرض ہے۔پس جبکہ ہمیں گورنمنٹ برطانیہ میں یہ آزادی حاصل ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اولوالامر کی اطاعت نہ کریں۔پھر ہماری اطاعت صرف اس لئے نہیں کہ دنیاوی لحاظ سے ہمیں اس حکومت سے تعلق اور واسطہ ہے بلکہ اس لئے ہے کہ قرآن کریم کا حکم ہے اور اس کے خلاف کرنا گناہ ہے۔پس ہم پر گورنمنٹ کی اطاعت دوسرے مذاہب کے لوگوں کی نسبت زیادہ فرض ہے کیونکہ اسلام نے کھول کھول کر اس کو بتا دیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اپنی گورنمنٹ کی اطاعت کریں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا عملی ثبوت دیا ہے۔آپ نے تمام عمر حکومت کی اطاعت کی اور دوسروں کو ایسا کرنے کی تلقین فرماتے رہے لیکن کچھ ایسے لوگ ہیں جو بظاہر اطاعت کرتے ہیں اور اگر ان کا بس چلے تو حکام کو کھا جائیں۔مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو امام مہدی کے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کے دل سے پوچھنا چاہئے کہ کیا گزرتی ہے۔کچھ عرصہ ہوا میرے پاس ایک سرکاری آفیسر بیٹھا تھا۔میں نے اسے بغداد کے فتح ہونے کی خبر سنائی تو اس کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے سخت ناپسند کیا۔مگر اسلام کی یہ تعلیم نہیں ہے۔اسلام کہتا ہے کہ اپنے حکمرانوں کی بچے دل سے اطاعت کرو۔پس ہم جو گورنمنٹ کی اطاعت کرتے ہیں تو اس کے ماتحت نہ کہ کسی پر احسان کرتے ہیں۔کیونکہ جس طرح ہم کو نماز - روزه - حج - زکوۃ دینے کا حکم ہے۔اسی طرح حکومت کی اطاعت کرنے کا حکم ہے۔ہم نماز پڑھتے ہیں مگر کسی پر احسان نہیں کرتے۔ہم روزہ رکھتے ہیں مگر کسی پر احسان نہیں کرتے۔ہم زکوۃ دیتے ہیں مگر کسی پر احسان نہیں کرتے۔ہم حج کرتے ہیں مگر کسی پر احسان نہیں کرتے اور جو ان