انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 308

۳۰۸ اسلام میں اختلافات کا آغاز دی۔نہ خود حضرت عثمان یا ان کے عمال نے کبھی کوئی ایسی سزا دی۔پس ایسی سزا کا اس خط میں تحریر ہونا اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ یہ خط کسی ایسے شخص نے بنایا تھا جو مغز اسلام سے واقف نہ تھا۔اس خط سے پہلے کے واقعات بھی اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ یہ خط حضرت عثمان یا ان کے سیکرٹری کی طرف سے ہو کیونکہ تمام روایات اس امر پر متفق ہیں کہ حضرت عثمان نے ان لوگوں کو سزا دینے میں بہت ڈھیل سے کام لیا ہے۔اگر آپ چاہتے تو جس وقت یہ لوگ پہلی دفعہ آئے تھے اس وقت ان کو قتل کر دیتے۔اگر اس دفعہ انہوں نے چھوڑ دیا تھا تو دوسری دفعہ آنے پر تو ضرور ہی ان سرغنوں کو گرفتار کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ کھلی کھلی سرکشی کر چکے تھے اور صحابہ ان سے لڑنے پر آمادہ تھے۔مگر اس وقت ان سے نرمی کر کے مصر کے والی کو خط لکھنا کہ ان کو سزا دے ایک بعید از عقل خیال ہے۔اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت عثمان کی نرمی کو دیکھ کر مردان نے ایسا خط لکھ دیا کیونکہ مردان یہ خوب جانتا تھا کہ حضرت عثمان حدود کے قیام میں بہت سخت ہیں۔وہ ایسا خط لکھ کر سزا سے محفوظ رہنے کا خیال ایک منٹ کے لئے بھی اپنے دل میں نہیں لا سکتا تھا۔پھر اگر وہ ایسا خط لکھتا بھی تو کیوں صرف مصر کے والی کے نام لکھتا۔کیوں نہ بصرہ اور کوفہ کے والیوں کے نام بھی وہ ایسے خطوط لکھ دیتا۔جس سے سب دشمنوں کا ایک دفعہ ہی فیصلہ ہو جاتا۔صرف مصر کے والی کے نام ہی خط لکھا جانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کوفہ اور بصرہ کے قافلوں میں کوئی عبداللہ بن سبا جیسا چال باز آدمی نہ تھا۔اگر یہ کہا جائے کہ شاید ان دونوں علاقوں کے والیوں کے نام بھی ایسے احکام جاری کئے گئے ہوں گے مگر ان کے لے جانے والے پکڑے نہیں گئے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہو تا تو یہ بات مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔کیونکہ اگر عبداللہ بن عامر پر یہ الزام لگا دیا جاوے کہ وہ حضرت عثمان " کا رشتہ دار ہونے کے سبب خاموش رہا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری " جو اکابر صحابہ میں سے تھے اور جن کے کامل الایمان ہونے کا ذکر خود قرآن شریف میں آتا ہے اور جو اس وقت کوفہ کے والی تھے وہ کبھی خاموش نہ رہتے اور ضرور بات کو کھول دیتے۔پس حق یہی ہے کہ یہ خط جعلی تھا اور مصری قافلہ میں سے کسی نے بنایا تھا۔اور چونکہ مصری قافلہ کے سوا دوسرے قافلوں میں کوئی شخص نہ اس قسم کی کارروائی کرنے کا اہل تھا اور نہ اس قدر عرصہ میں متعدد اونٹ بیت المال کے چرائے جاسکتے تھے اور نہ ہی اس قدر غلام قابو کئے جاسکتے تھے۔