انوارالعلوم (جلد 4) — Page 309
علوم جلد سم ۳۰۹ اسلام میں اختلافات کا آغاز اس لئے دوسرے علاقوں کے والیوں کے نام کے خطوط نہ بنائے گئے۔سب سے زیادہ اس خط پر روشنی وہ غلام ڈال سکتا تھا جس کی نسبت ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ خط لے گیا تھا۔مگر تعجب ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عثمان نے گواہوں کا مطالبہ کیا ہے اس غلام کو پیش نہیں کیا گیا اور نہ بعد کے واقعات میں اس کا کوئی ذکر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پیش کیا جانا ان لوگوں کے مفاد کے خلاف تھا۔شاید ڈرتے ہوں کہ وہ صحابہ کے سامنے آکر اصل واقعات کو ظاہر کر دے گا۔پس اس کو چھپا دیتا بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ خط کے بنانے والا یہ مفسد گروہ ہی تھا۔ایک نہایت زبردست ثبوت اس بات کا کہ ان لوگوں نے ہی یہ خط بنایا تھا یہ ہے کہ یہ پہلا خط نہیں جو انہوں نے بنایا ہے بلکہ اس کے سوا اسی فساد کی آگ بھڑ کانے کے لئے اور کئی خطوط انہوں نے بنائے ہیں۔پس اس خط کا بنانا بھی نہ ان کے لئے مشکل تھا اور نہ اس واقعہ کی موجودگی میں کسی اور شخص کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔وہ خط جو یہ پہلے بناتے رہے ہیں حضرت علی کے بدنام کرنے کے لئے تھے اور ان میں اس قسم کا مضمون ہو تا تھا کہ تم لوگ حضرت عثمان کے خلاف جوش بھڑکاؤ۔ان خطوط کے ذریعے عوام الناس کا جوش بھڑکایا جاتا تھا اور وہ حضرت علی کی تصدیق دیکھ کر عبد اللہ بن سبا کی باتوں میں پھنس جاتے تھے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان خطوط کا مضمون بہت مخفی رکھنے کا حکم تھا تاکہ حضرت علی کو معلوم نہ ہو جائے اور وہ ان کی تردید نہ کر دیں۔اور مخفی رکھنے کی تاکید کی وجہ بھی بانیانِ فساد کے پاس معقول تھی۔یعنی اگر یہ خط ظاہر ہوں گے تو حضرت علی مشکلات میں پڑ جاویں گے۔اس طرح لوگ حضرت علی کی خاطر ان خطوط کے مضمون کو کسی پر ظاہر نہ کرتے تھے۔اور بات کے مخفی رہنے کی وجہ سے بانیان فساد کا جھوٹ کھلتا بھی نہ تھا۔لیکن جھوٹ آخر زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہتا خصوصاً جب سینکٹروں کو اس سے واقف کیا جاوے۔حضرت عثمان کے نام پر لکھا ہوا خط پکڑا گیا اور عام اہل کوفہ نہایت غصہ سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک جماعت حضرت علی کے پاس گئی اور ان سے مدد کی درخواست کی حضرت علی تو تمام واقعہ کو سن کر ہی اس کے جھوٹا ہونے پر آگاہ ہو چکے تھے اور اپنی خدادا فراست سے اہل مصر کا قریب ان پر کھل چکا تھا۔آپ نے صاف انکار کر دیا کہ میں ایسے کام میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا اس وقت جوش کی حالت میں ان میں سے بعض سے احتیاط نہ ہو سکی اور بے اختیار بول اٹھے کہ پھر ہم سے خط و کتابت کیوں رہم۔