انوارالعلوم (جلد 4) — Page 249
العلوم جلد ۴ ۲۴۹ اسلام میں اختلافات کا آغاز ہیں جن کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد اور آقا کے نقش قدم پر چل کر ایسی روحانیت پیدا کر لی تھی کہ سیاسیات کی خطرناک الجھن میں پڑ کر بھی انہوں نے تقویٰ اور دیانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔اور سلطنت کے بار کے نیچے بھی ان کی کمر ایسی ہی ایستادہ رہی جیسی کہ اس وقت جب "قوت لایموت" کے وہ محتاج تھے اور ان کا فرش مسجد نبوی کی بے فرش زمین تھی اور ان کا تکیہ ان کا اپنا ہاتھ ان کا شغل رسول کریم ﷺ کا کلام مبارک سنا تھا اور ان کی تفریح خدائے واحد کی عبادت تھی۔اسلام کے اولین فدائی حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما غالبا آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا ارادہ اس وقت حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت کے متعلق کچھ بیان کرنے کا ہے۔یہ دونوں بزرگ اسلام کے اولین فدائیوں میں سے ہیں۔اور ان کے ساتھی بھی اسلام کے بہترین ثمرات میں سے ہیں۔ان کی دیانت اور ان کے تقویٰ پر الزام کا آنا در حقیقت اسلام کی طرف عار کا منسوب ہوتا ہے۔اور جو مسلمان بھی بچے دل سے اس حقیقت پر غور کرے گا اس کو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ ان لوگوں کا وجود در حقیقت تمام قسم کی دھڑا بندیوں سے ارفع اور بالا ہے۔اور یہ بات بے دلیل نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق اس شخص کے لئے جو آنکھ کھول کر ان پر نظر ڈالتا ہے اس امر پر شاہد ہیں۔جہاں تک میری تحقیق ہے ان بزرگوں اور ان کے غیر مسلم مؤرخین کی غلط بیانیاں دوستوں کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ اسلام کے دشمنوں کی کارروائی ہے اور گو صحابہ کے بعد بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی اپنی نفسانیت کے ماتحت ان بزرگوں میں سے ایک یا دو سرے پر اتمام لگائے ہیں لیکن باوجود اس کے صداقت ہمیشہ بلند و بالا رہی ہے اور حقیقت کبھی پردہ شفاء کے نیچے نہیں چھپی۔ہاں اس زمانہ میں جب کہ مسلمان اپنی تاریخ سے ناواقف ہو گئے اور خود اپنے مذہب پر ان کو آگاہی نہیں رہی اسلام کے دشمنوں نے یا تو بعض دشمنوں کی روایات کو تاریخ اسلام سے چن کر یا صحیح واقعات سے غلط نتائج اخذ کر کے ایسی تاریخیں بنا دیں کہ جن سے صحابہ اور ان کے ذریعہ سے اسلام پر حرف آوے۔چونکہ اس وقت مسلمانوں کی عینک جس سے وہ ہر ایک چیز کو دیکھتے ہیں یہی غیر مسلم مؤرخ ہو رہے ہیں اس لئے جو کچھ انہوں نے بتایا انہوں نے قبول کر لیا۔جن لوگوں کو