انوارالعلوم (جلد 4) — Page 248
لوم جلد ۴ اسلام میں اخذ اختلافات کا آغاز مجھ سے کہا گیا تھا کہ میں بعض اسلامی تاریخی مسائل پر کچھ بیان کروں مضمون کی اہمیت اور گو اسلامی تاریخ میں سب سے اہم وہ زمانہ ہے جس میں رسول کریم نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دنیا میں اسلام کا اعلان کیا اور تئیس سالہ محنت شاقہ سے لاکھوں آدمیوں کے دلوں میں اس کا نقش ثبت کیا اور ہزاروں آدمیوں کی ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کا فکر ، قول اور فعل اسلام ہی ہو گیا۔مگر چونکہ اسلام میں تفرقہ کی بنیاد رسول کریم ﷺ کی وفات کے پندرہ سال بعد پڑی ہے۔اور اس وقت کے بعد مسلمانوں میں شقاق کا شگاف وسیع ہی ہوتا چلا گیا ہے اور اسی زمانہ کی تاریخ نہایت تاریک پردوں میں چھپی ہوئی ہے اور اسلام کے دشمنوں کے نزدیک اسلام پر ایک بد نما دھبہ ہے اور اس کے دوستوں کے لئے بھی ایک سرچکرا دینے والا سوال ہے اور بہت کم ہیں جنہوں نے اس زمانہ کی تاریخ کی دلدل سے صحیح و سلامت پار نکلنا چاہا ہو اور وہ اپنے مدعا میں کامیاب ہو سکے ہوں۔اس لئے میں نے یہی پسند کیا کہ آج آپ لوگوں کے سامنے اس کے متعلق کچھ بیان کروں۔آپ لوگ جانتے ہوں گے کہ جو کام اللہ تعالٰی نے میرے سپرد کیا اسلام کا شاندار ماضی ہوا ہے (یعنی جماعت احمدیہ کی تربیت اور اس کی ضروریات کا انصرام اور اس کی ترقی کی فکر وہ اپنی نوعیت میں بہت سی شقوں پر حاوی ہے۔پس اس کے رام کے لئے ان خاص تاریخی مضامین کا جو زمانہ خلافت سے متعلق ہیں علم رکھنا میرے لئے ایک نہایت ضروری امر ہے اور اس لئے باوجود کم فرصتی کے مجھے اس زمانہ کی تاریخ کو زیر مطالعہ رکھنا پڑتا ہے۔اور گو ہمارا اصل کام مذہب کی تحقیق و تدقیق ہے مگر اس مطالعہ کے باعث ابتدائے اسلام کی تاریخ کے بعض ایسے پوشیدہ امر مجھ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ظاہر ہوئے ہیں جن سے اس زمانہ کے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔اور اس ناواقفیت کے باعث بعض مسلمان تو اپنے مذہب سے بیزار ہو رہے ہیں اور ان کو اپنا ماضی ایسا بھیانک نظر آرہا ہے کہ اس کی موجودگی میں وہ کسی شاندار مستقبل کی امید نہیں رکھ سکتے۔مگر ان کی یہ مایوسی غلط اور ان کے ایسے خیالات نادرست ہیں اور صرف اس امر کا نتیجہ ہیں کہ ان کو صحیح اسلامی تاریخ کا علم نہیں اسلام کا ماضی ایسا شاندار اور بے عیب ہے اور رسول کریم کے صحبت یافتہ سب کے سب ایسے اعلیٰ درجہ کے با اخلاق لوگ ہیں کہ ان کی نظیر دنیا کی کسی قوم میں نہیں ملتی خواہ وہ کسی نبی کے صحبت یافتہ کیوں نہ ہوں۔اور صرف رسول کریم ﷺ کے صحبت یافتہ لوگ ہی