انوارالعلوم (جلد 4) — Page xxvii
العلوم جلد ۴ ۲۱ تعارف که تقریر سے بعض نہایت ضروری اقتباس پیش کرنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: "یہ تقریر تقدیر الہی کے مسئلہ پر ہر پہلو سے بحث کرتی ہے اور مختلف قدیم و جدید اعتراضات کے جوابات بھی اس میں دیئے گئے ہیں۔تقدیر کے ذکر میں آپ نے سات روحانی مقامات کا ذکر بھی فرمایا ہے جو تقدیر الٹی کے مسئلہ کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس کے تقاضے پورے کرنے کے نتیجہ میں انسان کو مل سکتے ہیں۔گویا کہ روحانی ترقیات کے سات آسمان ہیں جن کی رفعتوں پر سب سے اوپر ہمیں آنحضرت محمد مصطفیٰ جلوہ گر نظر آتے ہیں"۔۱۸ واقعات خلافت علوی حضور کا معرکة الآراء لیکچر اسلام میں اختلافات کا آغاز فروری ۱۹۱۹ء میں ہوا جس میں حضور نے صحابہ کرام پر ہونے والے متعدد اعتراضات کو حل کرتے ہوئے حضرت عثمان کی افسوسناک شہادت کی وجوہ و غیرہ بیان فرما ئیں۔اس خطاب میں حضرت علی کے زمانہ خلافت کے واقعات بھی بیان کرنا چاہتے تھے مگر وقت کی تنگی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔حضور نے ۱۷ فروری ۱۹۲۰ء کو واقعات خلافت علوی پر اسلامیہ کالج لاہور کی مارٹن ہسٹار یکل سوسائٹی کے زیر اہتمام اس انتہائی اہم اور ضروری موضوع پر لیکچر دیا۔اس لیکچر کا خلاصہ یکم مارچ ۱۹۲۰ء کے الفضل میں شائع ہوا۔حضور نے اپنے گذشتہ سال والے خطاب کا ذکر کرتے ہوئے اور تاریخ اسلام کی ابتداء میں ہی بعض افسوسناک واقعات کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : اسلام کے دشمنوں کا خیال تھا کہ مسلمان جلدی مٹ جائیں گے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کی ظاہری فتوحات کو دیکھا اور ان کی قوت و شوکت کا ظاہری طور پر مقابلہ کرنے کے اپنے آپ کو نا قابل پایا تو انہوں نے مسلمانوں کے اندر داخل ہو کر دنا اور فریب سے انہیں مٹانے کی کوشش شروع کر دی ایسے ہی لوگوں نے اسلام میں فتنہ کی بنیاد رکھی"۔