انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxviii of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xxviii

رالعلوم جلد ۲۲ تعارف کتب جنگ جمل کے متعلق حضور کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ : دونوں طرفوں کو اس بات کا ایک دوسرے پر افسوس تھا کہ جب صلح کی تجویز کی گئی تھی تو پھر دھوکا سے حملہ کیوں کیا گیا حالانکہ یہ دراصل مفسدوں کی شرارت تھی۔ایسی صورت میں بھی حضرت علی نے احتیاط سے کام لیا اور اعلان کر دیا کہ ہمارا کوئی آدمی مت لڑے خواہ وہ ہمارے ساتھ لڑتے رہیں مگر مفسدوں نے نہ مانا" حضرت علی نے کشت و خون اور لڑائی ختم کرنے کی اور بھی کوششیں کیں مگر مفسدوں نے اپنی جان بچانے کے لئے لڑائی جاری رکھی یہاں تک کہ حضرت عائشہ کا اونٹ گرنے کے ساتھ جنگ ختم ہوئی اور حضرت علی اور ان کے ساتھیوں نے حضرت عائشہ کو عزت و اکرام کے ساتھ الوداع کیا اور حضرت عائشہ نے بھی فرمایا کہ ہم میں کوئی عداوت نہیں رہی۔حضور نے جنگ جمل کی حقیقت بیان کرنے کے بعد حضرت علی اور حضرت معاویہ کی لڑائی کے حالات بیان فرمائے اور ثابت کیا کہ تمام اختلاف اور انشقاق کے بانی مفسدہ پرداز لوگ تھے جن کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ واقعات کا صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہو گیا تھا۔آخر انہی لوگوں نے حضرت علی کے قتل کی سازش کی اور انہیں قتل کرا دیا۔ان کے بعد حضرت حسن کو خلیفہ منتخب کیا گیا لیکن انہوں نے معاویہ کے حق میں دست بردار ہو کر صلح کرلی۔