انوارالعلوم (جلد 4) — Page 174
العلوم جلد یم حقیقته الرؤيا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان خوابوں کا پتہ کس طرح لگے کہ فلاں جھوٹی ہے۔فلاں شیطانی ہے اور فلاں خدا کی طرف سے ہے۔جھوٹی رؤیا کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ جھوٹی وحی کی پہچان الأقاويل ، لأخَذْ نَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ فَمَا مِنكُمْ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ ٥ (الحالة: ۲۵ تا ۳۸) رسول کریم ﷺ کے متعلق خدا ه تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر یہ شخص اپنے پاس سے جھوٹ بنا کر الہام پیش کرتا تو ایسے لوگوں کے لئے ہم نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ایسے کو ہلاک کر دیتے ہیں اور اس کی تمام طاقت زائل کر دیتے ہیں۔یمین کا لفظ دین کے معاملات کے متعلق آتا ہے اس لئے اس کے یہ معنی ہوئے کہ اگر یہ جھوٹ بنا کر پیش کرتا تو ہم اس کی دینی قابلیتیں سلب کر لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔اس رگ کے کاٹنے کے معنی صرف قتل کے نہیں بلکہ ہر قسم کی ہلاکت اور تباہی کے ہیں۔اور خواہ کسی ذریعہ سے ہلاکت ہو وہ قطع و تین ہی ہوتی ہے تو یہ جھوٹے مدعی کی خدا تعالی نے علامت بتائی ہے۔بعض لوگوں کو اس معیار غلطی خدائی کا دعوی کرنے والے کے ہلاک نہ ہونے کی وجہ کے متعلق ایک لگتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ باب اور بہاء اللہ جھوٹی وحی کے مدعی تھے لیکن ہلاک نہیں ہوئے اس لئے یہ علامت درست نہیں ہے۔ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ باب تو ہلاک ہوا تھا اور بہاء اللہ پر بھی ہلاکت آئی تھی۔لیکن اگر قطع و تین کے معنے قتل ہی لئے جائیں تو بھی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ بہاء اللہ نے کبھی نبوت کا دعوئی نہیں کیا بلکہ خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور یہاں خدائی کا دعوی کرنے والے کے ہلاک ہونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ جھوٹی وحی بنانے والے یعنی جھوٹے نبی کی ہلاکت کا ذکر ہے۔اب اگر کوئی کہے کہ خدائی کا مدعی تو جھوٹے نبی سے بھی زیادہ مجرم اور قابل سزا ہوتا ہے اس کو تو اس سے بھی بہت جلد ہلاک ہونا چاہئے۔پس اس کے ہلاک نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی انسان کے جھوٹے نبی بننے سے تو لوگوں کو دھو کا لگ سکتا ہے کیونکہ بچے نبی بھی انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔لیکن کسی انسان کے خدائی کا دعوی کرنے سے کوئی دھوکا نہیں کھا سکتا کیونکہ کوئی انسان خدا نہیں ہو سکتا۔تو چونکہ کسی کے خدا بننے سے لوگوں کو دھوکا نہیں لگ سکتا اس لئے اسے ڈھیل دی جاتی ہے۔اور جھوٹے الہام