انوارالعلوم (جلد 4) — Page 173
را العلوم جلدم کا نام بھی نہیں سنا ہو تا (۳) ایسے لوگوں کو خبر دیتا ہے جو ان کے دشمن ہوتے ہیں (۴) ایسے لوگوں کو خبر دیتا ہے جن کا مذہب ان کے مذہب سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔اور اسی طرح اپنے بعض اور بندوں کے لئے جن کو وہ چن لیتا ہے کرتا ہے مگر شیطان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بات اقتدار کو چاہتی ہے اور شیطان کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہے۔یہاں تک تو میں نے دو گروہوں کے خیالات اور اعتراضات کے متعلق بتایا ہے۔اب رہ گئے باقی کے دو گروہ۔ان کے خیالات کی تردید الہام اور خواب کی اس اصل حقیقت کے بیان کرنے میں ہی آجائے گی جو مجھے خدا تعالی نے قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود کی کتب سے سمجھائی ہے۔اب میں اسے بیان کرتا ہوں۔یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ رویا تین قسم کی رویا کی قسمیں اور ان کے مدعی ہوتی ہے (۱) نفسانی (۲) شیطانی (۳) رحمانی۔اور رویا کے مدعی چار قسم کے ہوتے ہیں (۱) ایک وہ جنہیں کوئی رویا یا خواب دکھائی نہیں دیتی مگر وہ جھوٹ بول کر کہتے ہیں کہ ہمیں دکھائی گئی ہے (۲) وہ جن کو نفسانی خوابیں آتی ہیں (۳) وہ جن کو شیطانی خوابیں آتی ہیں (۴) وہ جنہیں رحمانی خوا ہیں اور رویا دکھائی جاتی ہیں۔ان چاروں قسم کے مدعیوں کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یوں ذکر فرماتا ہے۔وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يولى ٥ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوی (النجم : ۲ تا ۶) فرمایا کہ ہم بُوٹی یا ستارہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں جب وہ گر جائے کہ یہ جو مدعی نبوت کھڑا ہوا ہے یہ گمراہ نہیں ہو گیا کہ جھوٹ بول رہا ہے۔یہ کوئی ناوی نہیں ہے کہ اس کو کوئی الہام اور رویا تو ہوئی نہیں مگر یہ یونہی دعویٰ کرتا ہے کہ ہوتی ہے۔اور اگر کہو کہ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس کے دماغ میں نفسانی خیالات پیدا ہوتے ہیں۔فرمایا یہ بھی غلط ہے یہ ہوا و ہوس کے نیچے بھی نہیں بولتا۔نہ اپنی خواہشات کے مطابق ایسا کہتا ہے بلکہ وحی ہے جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔یہاں جھوٹی، قیاسی اور نفسانی خوابوں کی تردید ہو گئی۔اب رہ گئی تیسری قسم شیطانی خواب۔اس کے متعلق فرمایا عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوی اس کو وحی شیطان کی طرف سے نہیں ہوتی بلکہ بڑی زبر دست طاقت والے خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔تو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے چار قسم کے مدعیوں اور تین قسم کے خوابوں کا ذکر فرمایا