انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 165

العلوم جلد ۴ 145 حقیقته الرؤيا ا کیوں بھولتی رہیں۔حدیثوں سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم کو ایک رویا دکھائی گئی مگر آپ کو یاد نہ رہی۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے بارہا کہا کہ مجھے خواب بھول گئی۔اب جب کہ یہ ثابت ہو گیا کہ ایسے انسانوں کو بھی اپنی خواہیں بھول جایا کرتی ہیں جن کے نبی ہونے کی وجہ سے ان کی خوابوں کو تم حدیث النفس نہیں قرار دیتے تو تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ ان نبیوں کو حدیث النفس کے الہام بھی ہوا کرتے تھے۔لیکن اس عقیدہ سے تو مذہب اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔کیونکہ اس طرح یہ مشکل آپڑے گی کہ قرآن کریم کی نسبت بھی شک پڑ جائے گا کہ اس کا بھی کچھ حصہ شاید حدیث النفس ہو۔اور پھر چونکہ یہ امتیاز مشکل ہو جائے گا کہ کون سا حصہ حدیث النفس ہے اس لئے سارے قرآن پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے الہاموں میں بھی شبہ پیدا ہو جائے گا۔کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کو بھی بعض اپنی رو یا یاد نہ رہیں۔رسول کریم ﷺ کو اپنی خواب یاد نہ رہنے کی مثال تو صحیح بخاری میں موجود ہے کہ ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں آپ باہر تشریف لائے اور دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں۔آپ نے انہیں فرمایا کیوں لڑتے ہو۔مجھے لیلتہ القدر کے وقت کے متعلق بتایا گیا تھا مگر تم کو لڑتے دیکھ کر بھول گیا ہے۔بخاری کتاب الصوم باب رفع معرفة ليلة القدر لتلاحي الناس) پس اس حدیث کے ہوتے ہوئے۔خوابوں کے یاد نہ رہنے کے متعلق کیا جواب ہو سکتا ہے؟ اور حضرت مسیح موعود کے متعلق بھی کئی واقعات ثابت ہیں۔مثلاً لیکھرام کے متعلق جو خواب تھی اس میں ایک اور شخص کی نسبت بھی کچھ ظاہر کیا گیا تھا جس کا نام بھول گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ بعض خواہیں یاد نہیں رہتیں لیکن یہ نہیں کہ ہمیشہ بھول ہی جایا کرتی ہیں۔بلکہ جو حدیث النفس کے ماتحت خواہیں آتی ہیں وہ بھول جایا کرتی ہیں۔باقی رہا یہ کہ نبیوں کو کیوں بھولتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے تمام کاموں میں بڑی بڑی عجیب سمتیں ہوتی ہیں اور وہ عجیب عجیب طریقوں سے اپنے بندوں کے فائدہ اور ترقی کے سامان مہیا کرتا ہے۔نبیوں کو رؤیا کا بھول جانا بھی خدا کی حکمت کے ماتحت انسانوں ہی کے فائدہ اور نفع کے لئے ہوتا ہے۔مثلا لیلتہ القدر کے وقت کے متعلق جو خواب آئی اس کو دیکھو۔اگر وہ یاد رہتی اور اس کے ذریعہ سے لیلتہ القدر کا عین وقت معلوم ہو جاتا تو اس سے روحانی ترقی کرنے میں اتنا فائدہ حاصل نہ ہو تا جتنا اب بھول جانے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔اس کے بھلا