انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 159

ر العلوم جلدم ۱۵۹ حقیقته الرؤيا ا شک درست ہیں۔لیکن جو نتیجہ نکالا ہے وہ درست نہیں۔کیونکہ یہ امور یہ تو ثابت کرتے ہیں کہ خواب بعض بیماریوں کے نتیجہ میں بھی آجاتا ہے مگر یہ ثابت نہیں کرتے کہ خواب خدا تعالٰی کی طرف سے بطور ایک اشارہ اور ہدایت کے نہیں آتا بلکہ ہمیشہ بناوٹی ہی ہوتا ہے۔اور ہم تو ہرگز اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ خواب کبھی بیماری کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ خواب یا الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوتا ہے اور ان باتوں سے ہمارے اس دعوئی کا رد ہرگز نہیں ہو تا بلکہ ہمارے دعوی کی تائید ہوتی ہے۔کیونکہ اس قسم کے رویا کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔اہل یورپ کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی تحقیق اور کوشش سے ثابت کر لیا ہے کہ مصنوعی خوابیں ہو سکتی ہیں۔ہم کہتے ہیں سبحان اللہ اس بات کے لئے ہمیں کوشش نہ کرنی پڑی۔آپ لوگوں نے ہی کوشش کر کے قرآن کریم کی ایک صداقت کا اظہار کر دیا۔اب اگر کوئی ہم سے سوال کرے کہ قرآن میں جو لکھا ہے کہ اضغات واحلام بھی کچھ ہے۔کیوں نہ کہا جائے کہ دماغ کوئی خواب نہیں پیدا کر سکتا۔اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ دماغ اس قسم کی باتیں پیدا کر لیتا ہے تو ہم اس کو کہیں گے کہ دیکھو ڈاکٹروں نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا ہوتا ہے۔پھر تمہیں قرآن کریم کی اس بات کے ماننے میں کون سا عذر ہو سکتا ہے۔تو محققین کے یہ ثابت کر دینے کی وجہ سے کہ دماغ پر متفرق طبعی اثر پڑ کر انسان کو خواب آجاتی ہے اسلام پر کسی قسم کی زد نہیں پڑتی بلکہ اسلام کی ایک بات کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ اسلام خود اس قسم کی خوابوں کا ہونا تسلیم کرتا ہے۔باقی رہا یہ کہ یہ ساری کی ساری خواہیں اسی قسم کی ہوتی ہیں یہ اہل یورپ کی تحقیقات سے ثابت نہیں ہو سکتا۔انہوں نے جو کچھ ثابت کیا ہے وہ صرف یہی ہے کہ بعض ظاہری اور مصنوعی حالات اور تغیرات پیدا کرنے سے خوابیں آجاتی ہیں۔یہ نہیں کہ ان ظاہری حالات اور تغیرات کے علاوہ کسی اور وجہ سے خوابیں آہی نہیں سکتیں اور ان کے آنے کا کوئی ذریعہ ہے ہی نہیں۔پس انہوں نے بخیال خود اسلام کو اکھیڑنے کے لئے جو عمارت کھڑی کی تھی وہ نہ صرف یہ کہ بوسیدہ اور کمزور ہونے کی وجہ سے اسلام کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکی بلکہ اسلام کی صداقت کا موجب بن گئی ہے اور اس کے ذریعہ اسلام کی ایک بات کی تائید ہوگئی ہے۔انہوں نے بڑی محنت اور کوشش سے ایک توپ خانہ تیار کیا تھا کہ اس سے اسلام پر گولہ باری کریں گے۔مگر جب وہ تیار کر چکے ہیں تو وہ ان کے قبضہ سے نکل کر ہمارے تصرف میں آگیا ہے۔کیونکہ جو کچھ انہوں نے تیار کیا تھا اس کو خود قرآن کریم پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ