انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 140

انوار العلوم جلدم ۱۴۰ علم حاصل کرو لیں اس طرح کرنے سے ان کے اپنے علم میں بھی بہت ترقی ہوتی جائے گی۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پڑھانے سے علم بڑھتا ہے اور دوسرے یہ کہ جس طرح شیشہ کا عکس جب کسی دوسری چیز پر ڈالا جائے تو شعائیں لوٹ کر اس پر بھی پڑتی ہیں، اسی طرح جب دوسروں کو پڑھانا شروع کیا جائے گا تو ان کا عکس لوٹ کر ان کے علم پر پڑتا ہے اور اس کا علم اور زیادہ روشن ہو جاتا ہے، پھر بیوی بچوں کو پڑھانے میں جو ثواب حاصل ہو گا وہ علیحدہ ہو گا۔پس جس کو جتنا کچھ آتا ہے وہ باہر دوسروں کو بھی سکھائے اور گھر میں بیوی بچوں کو بھی پڑھائے۔ہاں ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیئے کہ بعض اوقات شیطان جھوٹے اور غلط معنی سکھا دیتا ہے اس کی بہت احتیاط کرنی چاہئے۔اگر کسی کے دل میں کوئی اس قسم کی بات پیدا ہو جس کی تصدیق رسول کریم کی احادیث اور حضرت مسیح موعود کی کتب سے اسے نہ ملتی ہو تو وہ اس کو لکھ لے اور یہاں آکر میرے سامنے پیش کرے ، یہاں سے اگر اس کے صحیح اور درست ہونے کی تصدیق ہو جائے تو پھر دوسروں کے سامنے بیان کرے۔پانچواں طریق پانچواں طریق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھی جائیں۔آپ کو خداتعالی نے قرآن کریم کی خاص معرفت اور علم دیا تھا آپ فرماتے ہیں کہ ہر نبی نے کوئی نہ کوئی حربہ چلایا ہے مجھے قرآن کریم کا حربہ ملا ہے پس چونکہ آپ کی کتب قرآن کریم کی بے نظیر تفسیر ہیں اس لئے ان کا پڑھنا نہایت ضروری ہے۔مجھے بھی خداتعالی نے خاص طور پر قرآن کریم کا علم بخشا ہے مگر جب میں حضرت مسیح موعود کی وعود کی کتابیں پڑھتا ہوں تو ان سے نئے نئے معارف اور نکات ہی حاصل ہوتے ہیں اور اگر ایک ہی عبارت کو دس دفعہ پڑھوں تو دس ہی نئے معارف حاصل ہوتے ہیں، براہین احمدیہ کو میں کئی مہینوں میں ختم کر سکا تھا۔میں بڑا پڑھنے والا ہوں کئی کئی سو صفحے لگاتار پڑھ جاتا ہوں مگر براہین کو پڑھتے ہوئے اس وجہ سے اتنی دیر لگی کہ کچھ سطریں پڑھتا تو اس قدر مطالب اور نکتے ذہن میں آنے شروع ہو جاتے کہ آگے نہ پڑھ سکتا اور وہیں کتاب رکھ کر لطف اٹھانے لگ جاتا۔چونکہ براہین احمدیہ قرآن کریم ہی کی تفسیر ہے اس لئے اس کے پڑھنے سے بھی نئے نئے مطالب سوجھتے ہیں یہی حال حضرت مسیح موعود کی دوسری کتابوں کا ہے اس لئے ان کو ضرور پڑھنا چاہئے۔دیکھو اس زمانہ میں شیطان اپنے پورے زور اور ساری قوت سے اسلام پر حملہ آور ہو رہا ہے اور حضرت مسیح موعود نے اس کا سر کچلنے کیلئے ایک