انوارالعلوم (جلد 4) — Page 578
انوار العلوم جلد ۵۷۸ تقدیر ال ہو۔جبرا چوری کروائی جاوے یا نماز پڑھوائی جاوے تو پھر سزا یا انعام کی وجہ نہیں رہتی بلکہ سزا کا دینا ایسے حالات میں ظلم ہو جاتا ہے جس سے خدا تعالیٰ پاک ہے۔اب میں یہ بتاتا تقدیر کے نزول کے وقت استعمال اسباب جائز ہے یا نہیں؟ ہوں کہ جب تقدیر۔جاری ہوتی ہے تو بندہ کو اسباب کے استعمال کی طاقت ہوتی ہے یا نہیں۔اور اگر طاقت ہوتی ہے تو پھر اسباب کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے یا نہیں۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جو تقدیر جوارح پر جاری ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں انسان کو استعمال اسباب کی طاقت نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت عمر کی زبان کو جب خاص الفاظ استعمال کرنے کا حکم ہوا تھا ان کی طاقت نہ تھی کہ دنیا کے کسی سامان کو بھی استعمال کر کے وہ اپنی زبان کو اس فقرہ کے بولنے سے روک سکتے۔یا اس کافر کے ہاتھ پر جب تقدیر جاری ہوئی کہ شل ہو کر تلوار اس سے گر جاوے اور محمد رسول اللہ ﷺ پر حملہ نہ کر سکے اس کی طاقت نہ تھی کہ اس کے خلاف کچھ کر سکے۔اسی طرح جب دل پر تقدیر جاری ہوتی ہے تو اس تقدیر کے خلاف انسان کا میلان ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن جو تقدیریں کہ خود انسان کے قلب اور جوارح پر جاری نہیں ہوتیں بلکہ دوسروں پر جاری ہوتی ہیں یا اس کے جسم کے ایسے حصوں پر جاری ہوتی ہیں جن کا کام طبعی ہے اس کے ارادہ کے ماتحت نہیں ہے اس وقت ایسے اسباب کے استعمال کی طاقت ہوتی ہے۔ایسی حالت میں پھر دو صورتیں ہوتی ہیں اول یہ کہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تقدیر نازل ہوئی ہے۔دوم وہ حالت کہ اسے معلوم ہی نہیں ہو تا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی تقدیر نازل ہوئی ہے۔جب اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ تقدیر نازل ہوئی ہے اس وقت اگر یہ اسباب استعمال کرتا ہے تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو تا۔لیکن جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تقدیر نازل کی ہے تو اس وقت اس کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔یا تو اس کو خود اللہ تعالی کی ہی طرف سے بعض اسباب یا گل اسباب کے استعمال کرنے کا حکم ہوتا ہے۔یعنی تقدیر تو ہوتی ہے مگر ان اسباب سے معلق ہوتی ہے۔مثلا رسول کریم کے لئے فتح پانا مقدر ہو چکا تھا مگر وہ تقدیر معلق تھی جنگ کے ساتھ۔پس ایسے وقت میں بندہ کے لئے فرض ہوتا ہے کہ بعض یا گل اسباب کو استعمال نہ کرے۔اگر کرے گا تو اس کو نقصان پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوگی۔اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ بندہ کو بتایا جائے کہ خدا تعالیٰ بغیر