انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 572

العلوم جلدة ۵۷۲ کیونکہ جرابیں اور دستانے زیادہ پہننے والے تو اور لوگ بھی تھے۔پھر زیادہ دوائیاں استعمال کرنے والے بھی اور لوگ تھے۔احمدیوں کے پاس کوئی زیادہ اسباب نہ تھے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہتے۔دراصل جرمز (GERMS) کو حکم تھا کہ احمدیوں کے جسم میں مت داخل ہوں۔مگر ساتھ ہی احمدیوں کو بھی حکم تھا کہ اسباب کو اختیار کرو۔وجہ یہ کہ یہ حکم دشمن کے سامنے بھی جانا تھا اور ایمان اور عدم ایمان میں فرق نہ رہ جاتا۔اگر بغیر ان اسباب کے احمدی طاعون سے محفوظ رہتے یا اگر اس حکم میں استثنائی صورتیں پیدا ہی نہ ہوتیں تو سب لوگ احمدی ہو جاتے اور یہ ایمان ایمان بالغیب نہ ہوتا۔(۲) دوسری قسم اس تقدیر کی وہ ہے جس میں اسباب موجود بھی نہیں ہوتے اور ساتھ شامل بھی نہیں کئے جاتے۔یہ تقدیر صرف نبیوں اور مؤمنوں کے سامنے ظاہر ہوتی ہے۔دوسروں کے سامنے نہیں ہوتی۔کیونکہ دوسروں کے سامنے اگر یہ تقدیر ظاہر ہو تو وہ ایمان حاصل کرنے کے ثواب سے محروم رہ جائیں۔لیکن مؤمن جو ایمان بالغیب لاچکتے ہیں ان کو ایمان باشہادۃ اس تقدیر کے ذریعہ سے دیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ خاص طور پر ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔اس قسم کی تقدیر کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آپ کے کرتہ چھینٹے پڑنے کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ آپ نے رویا میں دیکھا کہ میں خدا کے سامنے کچھ کاغذات لے کر گیا ہوں اور ان کو خدا کے سامنے پیش کیا ہے۔خدا نے ان پر دستخط کرتے وقت قلم چھڑ کا ہے اور اس کے قطرے میرے کپڑوں پر پڑے ہیں۔حضرت صاحب کو جب یہ کشف ہوا۔اس وقت مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں دبا رہے تھے۔دباتے دباتے انہوں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کے ٹخنے پر سرخ رنگ کا چھینٹا پڑا ہے۔جب اس کو ہاتھ لگایا تو وہ گیلا تھا۔جس سے وہ حیران ہوئے کہ یہ کیا ہے؟ میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کو خیال نہ آیا کہ یہ چھینٹے غیر معمولی نہ تھے بلکہ کسی ظاہری سبب کے باعث تھے۔انہوں نے کہا مجھے اس وقت خیال آیا تھا اور میں نے ادھر ادھر اور چھت کی طرف دیکھا تھا کہ شاید چھپکلی کی دم کٹ گئی ہو اور اس میں سے خون گرا ہو مگر چھت بالکل صاف تھی۔اور ایسی کوئی علامت نہ تھی جس سے چھینٹوں کو کسی اور سبب کی طرف منسوب کیا جا سکتا۔اس لئے جب حضرت صاحب اٹھے تو اس کے متعلق میں نے آپ سے پوچھا۔آپ نے پہلے تو ٹالنا چاہا۔لیکن پھر