انوارالعلوم (جلد 4) — Page 566
وم جلد " ۵۶۶ تقدیرانی کہ جو دونوں یا دونوں میں سے ایک جلنے کے قابل ہو رگڑ پیدا ہو کر آگ نکل آوے یا دو سخت رگڑنے والی چیزوں کے پاس کوئی ایسی شے ہو جو جلنے کی قابلیت رکھتی ہے۔تقدیر خاص دو طرح ظاہر ہوتی ہے۔(۱) (الف) تو اسی طرح کہ اسباب اس کے ساتھ ہوں۔(ب) اس طرح کہ اسباب اس کے ساتھ نہ ہوں۔وہ تقدیر خاص جس کے ساتھ اسباب شامل ہوتے ہیں آگے کئی طرح ظاہر ہوتی ہے۔-- یہ کہ اسباب نظر آتے ہیں اور پتہ لگ جاتا ہے کہ اس امر کے یہ اسباب ہیں اور ان میں تقدیر کا پہلو بہت مخفی ہوتا ہے۔یہ آگے پھر کئی طرح ظاہر ہوتی ہے۔-ii- اسباب بد کے مقابلہ میں اسباب نیک پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کسی گاؤں میں تھا جہاں کے نمبردار نے مخالفت کی وجہ سے اسے تکلیف دینی شروع کی۔اب خدا نے کسی وجہ سے (وہ وجہ کیا ہے اس کے متعلق آگے بیان کروں گا) یہ فیصلہ کیا کہ اس بندہ کو تکلیف نہ پہنچے۔اس کے لئے ایک طریق یہ ہے کہ تحصیلدار کے دل میں خدا تعالیٰ اس کی محبت ڈال دے اور وہ اس سے دوستانہ میل ملاقات شروع کر دے۔یہ دیکھ کر نمبردار خود بخود اس کی مخالفت سے باز آجائے گا کہ اس کا تو تحصیلدار سے تعلق ہے کہیں مجھ پر مقدمہ نہ دائر کر دے۔(۲) یہ کہ جو اسباب بد ہوتے ہیں وہ نیک ہو جاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کا کوئی مخالف است سے دشمنی کرتا ہے اور اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دے کہ وہ مخالف دوست بن جائے جیسا کہ حضرت صاحب کے ساتھ ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے وقت ہوا ہے۔جس نے آپ کے خلاف سازش کا مقدمہ دائر کروا دیا تھا جب یہ مقدمہ ہوا ہے اس وقت ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کپتان ڈگلس صاحب تھے۔یہ صاحب شروع شروع میں سخت متعصب تھے اور گورداسپور آتے ہی انہوں نے کئی لوگوں سے سوال کیا تھا کہ ایک شخص یہاں مسیحیت اور مہدویت کا دعوی کرتا ہے کیا اس کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا؟ ایسے شخص کو تو سزا ہونی چاہئے تھی کیونکہ ایسا دعوئی مخل امن ہے۔چونکہ یہ مقدمہ خاص اہمیت رکھتا تھا اس لئے انہی کی عدالت میں پیش ہوا۔اور انہوں نے اپنے مخفی تعصب کے ماتحت جو پہلے سے ان کو تھا پہلے حکم دینا چاہا کہ بذریعہ وارنٹ حضرت صاحب کو گرفتار کرا کے منگوایا جاوے۔مگر پولیس افسران نے اور ان کے عملہ کے آدمیوں نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ ایک