انوارالعلوم (جلد 4) — Page 505
۵۰۵ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲- دسمبر ۱۹۱۹ ء ان کی بڑی تعریفیں کرتے اور کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ معجزہ دکھایا یہ کرامت دکھائی۔لیکن جب اکیلے ہوتے ہیں تو آپس میں خوب ٹھٹھے اڑاتے ہیں۔اور لوگوں کی بے وقوفی پر ہنستے اور اپنی چالا کی پر خوش ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ ایک شخص نے ایک دوسرے شخص کو کہا کہ تم پیر بن جاؤ اور میں تمہارا مرید بن جاتا ہوں اور اس طرح بہت روپیہ کمالیں گے۔عجیب بات یہ ہے کہ عام لوگ ایسے جاہل ہیں کہ جھوٹے لوگوں کی فرضی اور بناوٹی کرامتوں کی تحقیقات نہیں کرتے۔اس شخص نے ایسا ہی کیا وہ پیر بن گیا اور دوسرا اس کا مرید۔جس نے اس کی بڑی بڑی کرامتیں مشهور کرنی شروع کر دیں۔اس پر بہت سے مرد اور عورتیں اس کے پاس نذریں لے کر جمع ہو گئے۔کوئی اس پیر صاحب سے کچھ مانگتا اور کوئی کچھ۔جب سب لوگ چلے گئے تو رات کو چیلے نے کہا لاؤ جو دن کو روپیہ ملا ہے اس میں سے مجھے بھی دو۔اس شخص نے کہا چل بد معاش۔سب روپیہ مجھ سے لے لے اور میرے پاس سے چلا جا۔چیلے نے پہلے تو سمجھا یہ مجھ پر بھی اپنی پیری کا سکہ بٹھانے کے لئے اس طرح کہہ رہا ہے۔لیکن جب اس نے سارا روپیہ اس کو دے دیا اور بار بار اس کو اپنے پاس سے چلے جانے کے لئے کہا تو اس نے پوچھا بتاؤ تو سہی تمہیں ہوا کیا ہے ؟ اس نے کہا مجھے یہ ہوا ہے کہ جب خدا کا جھوٹے طور پر نام لینے سے ایک دو دن میں اس قدر عزت ہو گئی ہے اور اتنا مال مل گیا ہے تو اگر میں بچے طور پر خدا کا نام لوں گا تو کیا کچھ نہ مل جائے گا۔اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض لوگ ظاہر میں کچھ ہوتے ہیں اور باطن میں کچھ۔اسی طرح بعض ظاہر میں برے برے فعل کرتے ہیں اور باطن میں اپنے آپ کو اچھا قرار دیتے ہیں۔اسلام نے ان دونوں طریقوں کو برا ٹھہرایا ہے اور قرار دیا ہے کہ انسان کو ظاہر میں بھی اچھا ہونا چاہئے اور باطن میں بھی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ظاہری اعمال بھی رکھتے ہیں اور باطنی ظاہری اور باطنی اعمال بھی۔ظاہری میں تو یہ رکھا ہے کہ لوگ مسجدوں میں اکٹھے ہو کر نمازیں پڑھیں اتر مذی ابواب الصلوة باب ماجاء فيمن سمع النداء فلا یجیب اور باطن میں یہ رکھا ہے کہ اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھی جائیں۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔جو لوگ اپنے گھروں میں نمازیں نہیں پڑھتے ان کے گھر نہیں بلکہ قبریں ہیں۔امسلم کتاب المساجد