انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 504

ام جلد ۴ صفحه ۲۰۲ مطبوعہ لاہور) ۵۰۴ خطاب جلسہ سالانہ کے ۲ دسمبر ۱۹۱۹ء تو یہ قربانیاں تھیں جو صحابہ اپنے نفسوں کی کرتے تھے۔اور اپنے آپ کو سوائے اس کے کچھ نہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالٰی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح ہیں رسول کریم جو یہ فرماتے ہیں۔کہ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِن وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (الانعام: ۱۶۳) اس میں قربانی سے مراد بکروں کی قربانی نہیں بلکہ جسمانی اور نفس کی قربانی ہے۔اور صَلاتِی کا لفظ مَحْيَای کے مقابلہ میں ہے۔اور نُسُکی کا لفظ مَمَاتِی کے مقابلہ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی یہ پچھلے لفظوں کی تشریح کرتا ہے۔صلاتی کے لئے فرمایا مَحْيَاءَ یعنی نماز کے مقابلہ میں زندگی کو رکھا کہ رسول کریم " فرماتے ہیں نماز پڑھنے سے میں نے زندگی حاصل کی اور خدا کو پالیا ہے۔اور نُسکی کے مقابلہ میں مَمَاتِی۔یعنی نفس کی قربانی کو رکھا ہے۔اس میں رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ بتایا گیا ہے۔کہ آپ نے اپنے نفس کو قتل کر دیا مگر ایسا قتل کیا کہ اس سے ہزاروں زندہ ہو گئے۔تو جب تک انسان اپنے نفس کو قتل نہ کرے۔اس وقت تک خدا تعالیٰ کا عہد نہیں کہلا سکتا۔اور خدا تعالیٰ کے لئے جب تک " میں " نہ ٹوٹے کوئی انسان عبد نہیں ہو سکتا کیونکہ میں کہنے والا عبد نہیں سمجھا جا سکتا۔پس تم لوگ اپنے اندر عبودیت پیدا کرو اور یہ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں دو ذریعوں سے ہو سکتی ہے۔اور اس وقت میں چاہتا ہوں کہ ان دو ذریعوں کو کسی قدر تفصیل سے بھی بیان کر دوں۔اول ذریعہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ہے کہ انسان ان فرائض کو عبد بننے کا پہلا ذریعہ پورا کرے جو اس کے ذمہ لگائے گئے ہیں اور ان باتوں سے بچے جن سے منع کیا گیا ہے۔اس حصہ کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ احکام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کا اس کی ذات سے تعلق اور جن کا علم دوسروں کو نہیں ہو سکتا۔اور ایک وہ جو ظاہر ہیں اور ان کا علم دوسروں کو بھی ہوتا ہے اور ان سے بھی اس کا تعلق ہوتا ہے۔انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں ایک ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہونے چاہئیں ظاہری اور ایک باطنی۔بعض لوگ جھوٹے پیر بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ ان کے مرید کہلانے لگ جاتے ہیں جو لوگوں کے سامنے تو