انوارالعلوم (جلد 4) — Page 467
انوار العلوم جلدم آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی۔تو یہ طریق بہت غلط ہے کہ فلاں بات فلاں کتاب میں لکھی ہے اس لئے اس کو مان لو۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ اس کتاب کی صداقت کا کیا ثبوت ہے۔وہ کتاب پہلے پچی ثابت ہو جاوے تو پھر اس کے تفصیلی حالات ماننے کے قابل ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ بات تو ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میری کتاب کچی ہے۔دلائل سے جب تک اس دعویٰ کا فیصلہ نہ ہو کس طرح کسی کتاب کو مانا جا سکتا ہے لیکن جب ثابت ہو جائے کہ فلاں کتاب خدا کی کتاب ہے اور اس وقت بھی واجب العمل ہے تو اس کے متعلق بھی یہ کہنا کہ ہم اس کے ہر ایک حکم کو اپنی عقل کے ماتحت لاکر پھر ما نہیں گے نادانی ہے کیونکہ تفصیلات میں ہمیشہ ماہر فن کی بات پر اعتبار کیا جاتا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ کتاب ساتھ ہی یہ بھی بتا دے کہ کیوں فلان حکم کو مانو۔مگر ایک شخص جو ہر قسم کے دلائل کی رو سے مانتا ہو کہ یہ خدا کا کلام ہے اس کے لئے حق نہیں کہ وہ اس کے احکام پر جرح کرے کہ فلاں بات ماننی چاہیے اور فلاں نہیں بلکہ اس کے پیرو کا تو یہ فرض ہے کہ وہ اس کے ہر حکم کو مانے یا پھر اس کی صداقت سے انکار کرے۔جیسا کہ ایک شخص کا حق ہے کہ وہ بہترین ڈاکٹر کا انتخاب کرے لیکن ڈاکٹر کا انتخاب کرلینے کے بعد اس کا یہ حق نہیں کہ وہ اس کے بتائے ہوئے نسخہ پر جرح کرے کہ اس میں فلاں دوائی کیوں ہے اور فلاں کیوں نہیں۔اگر کوئی شخص ڈاکٹر کے بتائے ہوئے نسخہ پر جرح کرے گا تو ڈاکٹر اس کو کہے گا کہ تو اس علم سے جاہل ہے جو میں بتاتا ہوں اس پر عمل کر۔اسی طرح مثلاً آپ نے قانون پڑھا ہے۔اگر کوئی شخص آپ کے پاس مقدمات لائے اور کہے کہ آپ اس طرح اس مقدمہ کو چلائیں جس طرح میں کہوں تو آپ اس کو کو یہی جواب دیں گے کہ قانون میں نے پڑھا ہے اس لئے مقدمہ کی باریکیوں اور قانونی نکتوں کو میں ہی سمجھ سکتا ہوں۔تم اس میں دخل دینے والے کون؟ پس ہر ایک شخص کا حق ہے کہ وہ ڈاکٹر اور بیرسٹریا وکیل کا انتخاب کرتے وقت خوب عقل سے کام لے اور اچھی طرح جرح کرے۔محض بڑے سائن بورڈ اور دلالوں کے چکموں میں نہ آجائے لیکن جب کامل تحقیق و تدقیق سے معلوم کرلے کہ کونسا ڈاکٹر یا بیر سٹریا وکیل قابل ہے تو پھر اس کے نسخوں اور اس کی تجاویز میں دخل نہ دے اور یہی عظمندی کا رستہ ہے اسی طرح ہر ایک شخص پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اچھے سے اچھا پروفیسر اور مدرسہ اور کالج تلاش کرے لیکن تلاش کر چکنے کے بعد یہ حق نہیں کہ پروفیسر کو مشورہ دے کہ جس طرح آپ پڑھاتے ہیں یہ طریق ٹھیک نہیں جس طرح میں بتاتا ہوں اس طرح پڑھائیں اور اگر آپ میرے بتائے ہوئے