انوارالعلوم (جلد 4) — Page 463
العلوم جلد ۴ ۴۹۳ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے سوچتے رہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں اب کی تحقیقات کے بعد بھی اسی نتیجہ پر قائم ہوں جس پر پہلے تھا اس لئے میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔پھر میں نے ان سے بیعت لی۔در حقیقت یہ انسان پر ظلم ہے کہ کسی عقیدہ پر انسان کو مجبور کرنا اس پر ظلم ہے اس کو کسی عقیدے پر مجبور کیا جائے اور اس کو موقع نہ دیا جائے کہ وہ خوب غور کرے اور سوچے اور سوچ سمجھ کر کسی عقیدہ کو ترک کرے یا کسی کو قبول کرے اور اس پر قائم رہے۔اصل میں ایمان تب ہی پیدا ہوتا ہے جب یہ حالت ہو جائے کہ تمام دنیا کی محبتیں اور تمام دنیا کے علاقے اور تمام دنیا کی کششیں اس کے مقابلہ میں بیچ ہو جائیں۔ایمان میں پوشیدگی کی ضرورت نہیں۔اگر کمزور ایمان ہو تو وہ تو شیشے کے برتنوں کی طرح ہے کہ جس کے ہر وقت ٹوٹنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔کچا برتن ایک مصیبت ہے اگر انسان اس مصیبت سے نجات چاہتا ہے تو اس کو آگ میں ڈال دے تاکہ وہ پختہ ہو جائے۔پس میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اپنی تحقیقات کو دہرائیں اور دیکھیں کہ جس بات کو آپ نے علمی طور پر صحیح پایا تھا اب اس کے مخالف باتیں سن کر اور علاقوں کی موجودگی اور جذبات کے ابھرنے پر بھی آپ ان کو صحیح پاتے ہیں اور ان پر قائم رہنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں ؟ اگر اس دوبارہ غور و خوض میں بھی آپ کو یہ نتائج صحیح اور یہ فیصلہ درست معلوم ہو اور آپ اس پر قائم رہنے کی جرات اپنے اندر پاتے ہوں تو پھر یہ ایک قابل قدر چیز ہو گی۔جہاں آپ نے پہلا فیصلہ کیا ہے اس ملک میں یہ جذبات اور تعلقات آپ کے آگے نہ تھے۔اب آپ جب ہندوستان میں آگئے ہیں تو وہ جذبات اور تعلقات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔اس لئے آپ اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔اگر وہ تحقیقات صحیح ثابت ہوں اور آپ اس کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں۔تب آپ کی تحقیق آپ کے لئے بھی اور آپ کے دوستوں کے لئے بھی موجب تسلی اور باعث خوشی ہو گی۔ہمیں تو حقیقت میں وہ ایمان پسند ہے جو ایسا پختہ ہو جس کے بعد کوئی کیسا ایمان چاہئے تحقیق اس کے مقابلہ میں نہ ٹھر سکے۔بعض اوقات رسول کریم کوئی بات فرماتے اور پھر فرماتے کہ ولا فخر ترمزی ابواب المناقب باب ما ماء في نقل النبي اسی طرح میں بھی مجبور امثال کے طور پر نہ کہ کسی فخر کے لئے کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالٰی