انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 434

العلوم جلد ۴ لمسلم ترکی کا مستقبل ! خلاف لڑتی رہی۔اور شاید ہزاروں ترک مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارے گئے ہوں گے۔مگر یہ ان کا فعل اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ ان کو ترکوں سے کسی قسم کا تعلق اور لگاؤ نہیں۔بلکہ صرف اسی مسلمہ اصل کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چھوٹی چیز بڑی چیز کے لئے قربان کی جاتی ہے۔چونکہ گورنمنٹ کی فرمانبرداری ان پر مذہباً فرض تھی اور وہ اس کے ممنون احسان تھے انہوں نے اس وقت تک کہ گورنمنٹ برطانیہ کی ترکوں سے جنگ رہی اپنے اس مذہبی فرض کے ماتحت گورنمنٹ برطانیہ کی خاطر اور امن کے قیام کے لئے ایک مسلمان کہلانے والی قوم سے جنگ کی اور ان پر گولیاں چلا ئیں مگر جوں ہی جنگ ختم ہو گئی اور سلطنت برطانیہ کے تعلقات ترکوں سے درست ہو گئے مسلمانوں کی طبعی ہمدردی پھر جوش میں آئی۔اور اب ان کی سے ہمدردی کرنا شرعا و عرفا کسی طرح ممنوع نہ تھا۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام عالم اسلام ترکوں کے مستقبل کی طرف افسوس اور شک کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔اور یہ بھی درست ہے کہ ان کی حکومت کا مٹا دینا یا ان کے اختیارات کو محدود کر دیتا ان کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچائے گا۔مگر اس کی یہ وجہ بیان کرنا کہ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہیں درست نہیں۔کیونکہ بہت سے لوگ ان کو خلیفۃ المسلمین نہیں مانتے مگر پھر بھی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں میرے نزدیک ایسے نازک وقت میں جبکہ اسلام کی ظاہری شان و شوکت سخت خطرہ میں ہے۔اس مسئلہ کو ایسے طور پر پیش کرنا کہ صرف ایک ہی خیال اور ایک ہی مذاق کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں سیاسی اصول کے بھی بر خلاف ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک معتد بہ حصہ شیعہ مذہب کے لوگوں کا ہے۔اور سوائے بعض نہایت متعصب لوگوں کے تعلیم یافتہ اور سمجھدار طبقہ ترکوں سے ہمدردی رکھتا ہے مگر وہ کسی طرح بھی سلطان ترکی کو خلیفہ المسلمین ماننے کے لئے تیار نہیں۔اسی طرح اہلحدیث میں سے گو بعض لوگ خلافت عثمانیہ کے ماننے والے ہوں مگر اپنے اصول کے مطابق وہ لوگ بھی صحیح معنوں میں خلیفۃ المسلمین سلطان کو نہیں مانتے۔ہماری احمدیہ جماعت تو کسی صورت میں بھی اس اصل کو قبول نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی قبل از وقت دی ہوئی اطلاعوں کے ماتحت آپ کی صداقت کے قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو اس زمانہ کے لئے مسیح موعود اور مہدی مسعود بنا کر مسلمانوں کی ترقی اور قیام کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔اور