انوارالعلوم (جلد 4) — Page 435
م جلد ۴ ۳۵م ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض اس وقت وہی شخص خلافت کی مسند پر متمکن ہو سکتا ہے جو آپ کا متبع ہو۔اور قریباً تمام کی تمام جماعت احمد یہ اس وقت اس عاجز کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر کے اس بات کا عملی ثبوت دے چکی ہے کہ وہ کسی اور خلافت کے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ان تینوں فرقوں کے علاوہ اور فرقے بھی ہیں جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں لیکن خلافت عثمانیہ کے قائل نہیں۔بلکہ خود اہل السنت والجماعت کہلانے والے لوگوں میں سے بھی ایک فریق ایسا ہے جو خلافت عثمانیہ کو نہیں مانتا ورنہ کیوں کر ہو سکتا تھا کہ ایک شخص کو رسول کریم ای کا صحیح جانشین تسلیم کر کے وہ اس کے خلاف تلوار اٹھاتے۔پس اندریں حالات ایسے جلسہ کی بنیاد جس میں ترکوں کے مستقبل کے متعلق تمام عالم اسلامی کی رائے کا اظہار ہ نظر ہو ایسے اصول پر رکھنی جنہیں سب فرقے تسلیم نہیں کر سکتے درست نہیں کیونکہ اس سے سوائے فضا اختلال کے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔و میرے نزدیک اس جلسہ کی بنیاد صرف یہ ہونی چاہئے کہ ایک مسلمان کہلانے والی سلطنت کو جس کے سلطان کو مسلمانوں کا ایک حصہ خلیفہ بھی تسلیم کرتا ہے ہٹا دینا یا ریاستوں کی حیثیت دینا ایک ایسا فعل ہے جسے ہر ایک فرقہ جو مسلمان کہلاتا ہے نا پسند کرتا ہے اور اس کا خیال بھی اس پر گراں گزرتا ہے۔اس صورت میں تمام فرقہ ہائے اسلام اس تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ خلافت عثمانیہ کے قائل نہ ہوں۔بلکہ باوجود اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے اور سمجھتے ہوں۔اس اصل پر متحد ہو کر یک زبان ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔کیونکہ گو ایک فریق دوسرے کو کافر سمجھتا ہو مگر کیا اس میں کوئی شک ہے کہ دنیا کی نظروں میں اسلام کے نام میں سب فرقے شریک ہیں۔اور اسلام کی ظاہری شان و شوکت کی ترقی یا اس کو صدمہ پہنچنا سب پر یکساں اثر ڈالتا ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک ہمارے سلطان ملک معظم جارج خامس فرمانروائے حکومت برطانیہ ہیں۔اور خلیفہ وقت حضرت مسیح موعود کا صحیح جانشین یہ عاجز ہے۔مگر باوجود اس کے جماعت احمد یہ اس وقت جب کہ سلطنت برطانیہ کے مفاد اور اس کی عزت کے خلاف کوئی امر نہ ہو ترکوں کی سلطنت سے ہر طرح ہمدردی رکھتی ہے۔کیونکہ باوجود اختلاف عقیدہ رکھنے کے ان کی ترقی سے اسلام کے نام کی عظمت ہے جس میں ہم دونوں شریک ہیں اس مخلصانہ مشورہ کے بعد میں تمام احباب کرام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ لوگ اس طرح اتفاق کے ساتھ ایک مقام پر کھڑے ہو کر کام