انوارالعلوم (جلد 4) — Page 404
وم جلد سم خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ اسی طرح بات بڑھتی بڑھتی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ پھر اگر ہم بھی کہیں کہ اس جھگڑے کو چھوڑ دو تو نہیں مانتے اور احمدیت کو چھوڑ دیتے ہیں اس نقص کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہر جگہ محکمہ قضاء مقرر نہیں ہے۔اگر کچھ لوگوں کو مسائل سکھلا کر مختلف مقامات پر انہیں مقرر کر دیا جاتا تو ایسا نہ ہوتا۔اب قاضی القضاۃ کا محکمہ تو یہاں مقرر کیا گیا ہے۔آئندہ موٹے موٹے اور ضروری مسائل کچھ لوگوں کو سکھا کر مختلف جماعتوں میں انہیں مقرر کر دیا جائے گا تاکہ وہ مقامی جھگڑوں اور فسادوں کا تصفیہ کر دیا کریں اور بات زیادہ بڑھ کر خرابی کا موجب نہ ہو۔ہاں ان کے فیصلہ کی اپیل یہاں کے محکمہ قضاء میں ہو سکے گی۔پھر ایک صیغہ فتویٰ کا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد زمانہ محکمہ فتاوی خانماء میں قاعدہ تھاکہ شرعی امور میں فتوی دینے کی ہر شخص کو اجازت نہ تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو اتنی احتیاط کرتے تھے کہ ایک صحابی نے (غالبا عبد اللہ بن مسعود نے) جو دینی علوم میں بڑے ماہر اور ایک جلیل القدر انسان تھے ایک دفعہ کوئی مسئلہ لوگوں کو بتایا اور اس کی اطلاع آپ کو پہنچی تو آپ نے فورا ان سے جواب طلب کیا کہ کیا تم امیر ہو یا امیر نے تم کو مقرر کیا ہے کہ فتویٰ دیتے ہو۔دراصل اگر ہر ایک شخص کو فتویٰ دینے کا حق ہو تو بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔اور عوام کے لئے بہت سے فتاوی ابتلاء کا موجب بن سکتے ہیں۔کیونکہ بعض اوقات ایک ہی امر کے متعلق دو مختلف فتوے ہوتے ہیں اور دونوں صحیح ہوتے ہیں۔مگر عوام کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دونوں کس طرح درست ہیں۔اس لئے وہ جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔مثلاً نماز ہی میں کئی باتیں مختلف طور پر ثابت ہیں۔اب کئی لوگ اس پر لڑتے ہیں کہ فلاں یوں کرتا اور فلاں اس کے خلاف کرتا ہے۔حتی کہ وہ کسی کو اپنے خیال کے ذرا سا خلاف کرتے ہوئے بھی دیکھیں تو اس کے پیچھے نماز توڑ دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ سمجھیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ دونوں باتوں میں کچھ حرج نہ تھا۔غرض عوام جو واقف نہ ہوں ان کے سامنے اگر دو جائز باتیں بھی پیش کی جائیں تو وہ لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں اس لئے فتوے دینے کے لئے ایک خاص محکمہ مقرر کیا گیا ہے۔ہر قسم کے فتوے دینا اس کا کام ہو گا اور کسی اور کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی فتوی دے۔اس پر غرض فی الحال میں نے یہ انتظام کیا ہے۔اور اس انتظام کی نگرانی کے لئے قابل توجه امر ایک ناظر اعلیٰ مقرر کیا ہے۔اور ہر ایک صیغہ کا ایک ایک الگ ناظر رکھا