انوارالعلوم (جلد 4) — Page 377
العلوم جلد " ۳۷۷ عرفان الى اور انکے اعمال کی انہیں خبر دیگا۔اللہ تعالٰی نے ان کو گن رکھا ہے۔لیکن یہ لوگ جن کا فرض تھا کہ ان کو یاد رکھتے یہ ان کو بھول گئے ہیں۔اور اللہ تعالی تو ہر ایک بات پر نگران ہے۔گویا یاد رکھنے کی ضرورت تو انہیں تھی جنہیں حساب دینا تھا۔مگر وہ بھولتے رہے اور اللہ گنتا رہا اور یہ نہایت عجیب بات ہے اور خلافِ دانش ہے۔پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محاسبہ ضروری ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے بندہ کے لئے ضروری تھا کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہتا۔کیونکہ اسے قیامت کو حساب دینا تھا۔اسے چاہئے تھا کہ وہ اپنے اعمال اپنے سامنے رکھتا۔لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔تو محاسبہ کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول مشہور ہے۔جسے عام طور پر غلطی سے حدیث سمجھا جاتا ہے کہ حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا - (ترمذی ابواب صفه القيمة باب ما جاء في صفة اواني الحوض تم اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔اب یاد رکھنا چاہئے کہ محاسبے دو قسم کے ہوتے ہیں اور ان دونوں میں محاسبہ کی دو قسمیں فرق ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت لوگ محاسبہ کو ہی نہیں سمجھ سکے اور نہ دوسروں کو اس کی طرف توجہ دلا سکے۔تم لوگ ان دونوں قسموں کو خوب یاد رکھو۔محاسبہ کی ایک قسم جزء کے متعلق ہے اور دوسری گل کے متعلق۔ان میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے عام لوگ محاسبہ کو نہیں سمجھ سکتے۔قسم اول تو وہ ہے جو ہر عمل کیساتھ تعلق رکھتی ہے اور قسم دوم تمام اعمال کے متعلق ہے۔پہلی قسم اعمال کو درست کرتی ہے اور دوسری قسم انہیں صیقل کرتی ہے۔لوگوں نے ان دونوں کو ملا دیا ہے یا صرف دوسری کو بیان کیا ہے۔لیکن اصل محاسبہ جس سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے یہی ہے کہ دونوں طرح محاسبہ کیا جاوے۔اب میں ان دونوں قسموں کی تفصیل بیان کرتا ہوں۔پہلی محاسبہ کی تین ضمنی قسمیں قسم جو اجزاء کے متعلق ہے۔اس کی تین قسمیں ہیں۔(1) محاسبہ ابتدائیہ (۲) محاسبہ وسطی (۳) محاسبه اخر می۔محاسبہ اولیٰ ہر ایک انسان کو چاہئے کہ جب وہ کوئی کام کرنے لگے تو اس کے شروع کرنے سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور اس سے دو سوال کرے (1) اس کام کے کرنے کی غرض کیا ہے (۲) کسی کی خاطر وہ یہ کام کرنے لگا ہے۔سوال اول سے تو اس کو یہ فائدہ ہو گا کہ اگر وہ کام برا ہے تو اس سوال کے جواب سے اس کی برائی کا اس کو علم ہو جاویگا۔کیونکہ اغراض