انوارالعلوم (جلد 4) — Page 375
انوار العلوم جلد ۴ ۳۷۵ عرفان اشمی انسان پہنچ جائے تو پھر بھی اسی کشتی میں بیٹھا رہنا نادانی ہے۔یہ بعض جھوٹے اور فریبی صوفیوں کی باتیں ہیں کہ اعمال کشتی ہیں جو خدا تک پہنچاتے ہیں۔اب کیا کبھی خدا تک پہنچیں گے یا نہیں۔جب پہنچ جائیں تو پھر ان کی ضرورت نہیں رہتی۔لیکن یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے وجہ یہ کہ جس ہستی کے پاس ہمیں پہنچتا ہے وہ محدود نہیں اور ہم ایک ایسے دریا کے اندر چل رہے ہیں جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔پس ہماری مثال اس شخص کی سی ہے جو دریا میں جا رہا ہو اور جس کی غرض یہ ہو کہ وہ اس دریا کے دہانے تک پہنچے۔نہ اس شخص کی جو ایک کنارہ دریا سے دوسرے کنارے تک جا رہا ہو۔پس چونکہ خدا محدود نہیں اس لئے اس تک پہنچنے کے لئے ہمارے اعمال بھی محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ہاں اگر وہ محدود ہوتا تو ہماری نمازیں ہمارے روزے ہماری زکوۃ ہمارا حج بھی محدود ہوتا۔لیکن جب کہ ہمارا خدا محدود نہیں تو ہمارے اعمال کس طرح محدود ہو سکتے ہیں۔ہمیں اپنے اعمال کے نتیجہ میں کل جس قدر اجر ملا تھا آج اس سے زیادہ ملے گا۔اور آنے والے کل میں اس سے زیادہ حتیٰ کہ ہر روز اس میں ترقی ہوتی جائیگی۔پس عبادات پر دوام ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ کچھ عرصہ کی اور پھر چھوڑ دی۔ایسا کرنے سے پہلے جو کچھ حاصل کیا جائے اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔کہ وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قَوَّةٍ أَنْكَاثَاً (النحل : ۹۳) یعنی اس عورت کی طرح نہ ہنو۔جس نے سوت کات کر جب وہ قابل استعمال ہو گیا اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیا۔یہ ہے کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان بغیر استاد کے سمجھ نہیں پانچویں بات سکتا اور ضروری ہوتا ہے کہ ان کے سمجھانے والا اسے کوئی استاد ملے۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ - (التوبة: (119) كم اے مؤمنو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔یعنی ان کی مجلسوں میں بیٹھو ماکہ پختہ ہو جاؤ۔پس یہ بہت ضروری بات ہے کہ استاد کامل سے انسان فائدہ اٹھائے مجددوں ولیوں اور کامل مؤمنوں کے سلسلے ہر زمانہ میں چلتے ہیں اور جب یہ مفقود ہوتے ہیں تو خدا کسی نبی کو بھیج دیتا ہے اس لئے ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔کیونکہ جس طرح کوئی طالب علم خود بخود کتابیں نہیں پڑھ سکتا بلکہ اسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح روحانی مدارج بھی خود بخود حاصل نہیں ہو سکتے ان کے لئے بھی استاد کی ضرورت ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں خدا تعالٰی فرماتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهم