انوارالعلوم (جلد 4) — Page 374
انوار العلوم جلد ۴ عرفان الی لازمی طور پر اعمال صالحہ ہوں۔اس لئے ساتھ انکا بھی حکم دے دیا۔لیکن دوسری بار جس ایمان کا ذکر ہے وہ پہلے سے زیادہ پختہ ہے۔اور اس کی وجہ سے اعمال صالحہ خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس لئے اس کے ساتھ اعمال صالحہ کا ذکر نہیں کیا۔اس کے بعد تیسری بار فرمایا۔پھر تقویٰ کرو اور اس کے نتیجہ میں محسن ہو جاؤ جس میں اشارہ کیا ہے کہ تکرار عمل سے انسان کے ایمان میں خاص ترقی حاصل ہوتی ہے اور وہ ہر دفعہ قدم آگے بڑھاتا ہے۔اس آیت میں جو احسان کا لفظ ہے۔اس کے معنی خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔اور وہ یہ کہ احسان یہ ہے کہ ان تَعْبُدَ اللَّهَ كَانَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل من الایمان و الاسلام و غیر هما) کہ تو خدا تعالی کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔اور اگر یہ حالت نہ پیدا ہو تو کم سے کم یہ حالت ہو کہ تجھے یہ یقین ہو کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے اور اسی کا نام عرفان الہی ہے۔پس اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ کسی عمل کا تکرار کیسا ضروری ہوتا ہے اور کس طرح ہر دفعہ اس سے پہلے کی نسبت بڑا نتیجہ نکلتا ہے۔کیونکہ فرماتا ہے کہ جب ایک انسان تقوی سے کام لیتا ہے تو اسے ایمان نصیب ہوتا ہے اور عمل صالح کی توفیق ملتی ہے۔اس کے بعد جب وہ پھر تقویٰ سے کام لیتا ہے تو اس کے ایمان میں اور ترقی ہوتی ہے۔اور وہ ایسا پختہ ہو جاتا ہے کہ اعمال صالحہ اس کے ایمان کے جزو بن جاتے ہیں اور خود بخود ہی اس سے نیکیاں سرزد ہوتی ہیں۔جب پھر تقوی سے کام لیتا ہے تو اور بھی ترقی ہو جاتی ہے اور محسن کا درجہ اسے نصیب ہو جاتا ہے۔جس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمائی کہ وہ خدا تعالیٰ کا محبوب ہو جاتا ہے اور محبوب سے کون پردہ کرتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ خدا کو دیکھ لیتا ہے اور اسی کا نام عرفان الہی ہے۔یہ ہے کہ اعمال پر دوام اختیار کرو۔چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔وَاعْبُدْ رَبِّكَ چوتھی بات حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر: ١٠٠) کہ اللہ کی عبادت اس وقت تک کرتے رہو (1** ;) جب تک کہ موت آجائے اور تم اس دنیا سے جدا کئے جاؤ۔وہ لوگ جھوٹے اور کذاب ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں خدا مل گیا ہے اس لئے کب تک کشتی میں بیٹھے اس کی تلاش کرتے رہیں۔اور نماز، روزہ، حج، زکوۃ ایک کشتی ہے جو خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔پس جب خدا تک