انوارالعلوم (جلد 4) — Page 363
عرفان الهی نہیں آتے بلکہ دن بدن زیادہ نکلتے رہتے ہیں۔اسی طرح روحانی علوم بھی اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔اس علم کا دروازہ اس زمانہ میں خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کھولا ہے۔اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء اس کو اور زیادہ وسیع کریں گے۔میں نہیں جانتا مجھے اس کو وسعت دینے کا موقع ملے گا یا نہیں۔اب بھی میں دوائی کھا کر تقریر کے لئے کھڑا ہوا ہوں مگر میں یہ ضرور بتاؤ نگا کہ آپ لوگ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ بہت سی روحانی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا علاج ڈاکٹروں سے کرایا جا سکتا ہے۔ایک ایسا شخص جو قرآن کریم کو پڑھتا اور سمجھتا ہے۔پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر باوجود اس کے بعض بدیاں سرزد ہوتی ہیں۔اسے اندیشہ کرنا چاہئے کہ اسے کوئی جسمانی مرض لاحق ہے جو عمونا اعصابی قسم کی ہو گی اور اسے ڈاکٹر سے اپنی صحت کے متعلق مشورہ لینا چاہئے اور گو ہمارے ملک میں اعصابی امراض کے علاج کی طرف اطباء کو کم توجہ ہے۔مگر میں امید کرتا ہوں که بهت دفعه عام اعصابی کمزوری کے علاج سے انسان اپنی روحانیت میں بھی ایک نمایاں ترقی محسوس کریگا۔اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اس میں پیدا ہو جاو گی اور اپنے اندر اپنے جذبات پر قابو رکھ سکنے کی اہمیت وہ معلوم کرلیگا۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی گناہوں سے بچنے میں بے کسی کی حالت جسمانی بیماری کا ہی نتیجہ ہوتی ہے بلکہ بالعموم ایسا ہوتا ہے۔اور کبھی کبھی بطور سزا کے بھی انسان پر یہ حالت طاری کی جاتی ہے۔اور کبھی بطور عادت کے بھی ایسا ہوتا ہے۔ان مؤخر الذکر دونوں صورتوں میں سے اول الذکر کا علاج صرف روحانی علاج کے ماہر کر سکتے ہیں۔اور ثانی الذکر کا علاج بھی وہی لوگ یا علم اخلاق کے ماہر کر سکتے ہیں۔پس اس کو قاعدہ کلیہ نہیں سمجھنا چاہئے۔اگر کوئی کہے کہ جب ایک شخص کوشش کرتا ہے کہ بدی سے بچے لیکن بیماری کی وجہ سے بچ نہیں سکتا تو پھر اسے سزا کیوں ہو گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سزا اس لئے ہوگی کہ اس نے اس کا علاج کیوں نہ کرایا یہ اس کا قصور ہے نہ کہ کسی اور کا۔مجھے اگر فرصت ملی تو میں اس روحانی امراض کے علاج جسمانی ڈاکٹروں سے تحقیقات کو مکمل کر دونگا۔لیکن اگر میں نہ کر سکوں تو تم لوگ یاد رکھو کہ روحانی امراض کے بعض ایسے علاج ہیں۔جو ڈاکٹروں کے ذریعہ ہو سکتے ہیں۔اس بات کو مد نظر رکھ کر تم اپنے طور پر کوشش میں لگے رہو اور اپنی