انوارالعلوم (جلد 4) — Page 302
وم جلد ۴ ۳۰۲ اسلام میں اختلافات کا آغاز سب حیران ہوئے اور دیکھنا شروع کیا کہ اس کا باعث کیا ہے۔میں اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور دیکھنے لگا۔اتنے میں اچانک یہ لوگ مسجد میں گھس آئے اور مسجد پر بھی اور آس پاس کی گلیوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ان کے اچانک حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ اور اہل مدینہ کی طاقت منتشر ہو گئی اور وہ ان سے لڑ نہ سکے اور ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔کیونکہ شہر کے تمام ناکوں اور مسجد پر انہوں نے قبضہ کر لیا تھا۔اب دو ہی راستے کھلے تھے۔ایک تو یہ کہ باہر سے مدد آوے اور دوسرا یہ کہ اہل مدینہ کسی جگہ پر جمع ہوں اور پھر کسی انتظام کے ماتحت ان سے مقابلہ کریں۔امر اول کے متعلق ان کو اطمینان تھا کہ حضرت عثمان ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا رحم اور ان کی حسن ظنی بہت بڑھی ہوئی تھی اور وہ ان لوگوں کی شرارت کی ہمیشہ تاویل کر لیتے تھے اور امردوم کے متعلق انہوں نے یہ انتظام کر لیا کہ مدینہ کی گلیوں میں اور اس کے دروازوں پر پہرہ لگا دیا اور حکم دے دیا کہ کسی جگہ اجتماع نہ ہونے پائے۔جہاں کچھ لوگ جمع ہوتے یہ ان کو منتشر کر دیتے۔ہاں یوں آپس میں بولنے چالنے یا لا کے ڈکے کو میل ملاقات سے نہ روکتے تھے۔جب اہل مدینہ کی حیرت ذرا کم ہوئی تو ان میں سے بعض اہل مدینہ کا باغیوں کو سمجھانا نے مسجد کے پاس اگر جہاں ان کا مرکز تھا ان کو سمجھانا شروع کیا۔اور ان کی اس حرکت پر اظہار ناراضگی کیا مگر ان لوگوں نے بجائے ان کی نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے ان کو ڈرایا اور دھمکایا اور صاف کہہ دیا کہ اگر وہ خاموش نہ رہیں گے تو ان کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔اور یہ لوگ ان سے بُری طرح پیش آدیں گے۔اب گویا مدینہ دار الخلافت نہیں رہا تھا۔خلیفہ وقت کی باغیوں کا مدینہ پر تسلط قائم کرنا حکومت کو موقوف کر دیا گیا تھا اور چند مفسد اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتے تھے کرتے تھے۔اصحاب نبی کریم ا کیا اور دیگر اہل مدینہ کیا کو اپنی عزتوں کا بچانا مشکل ہو گیا تھا۔اور بعض لوگوں نے تو اس فتنہ کو دیکھ کر اپنے گھروں سے نکلنا بند کر دیا تھا۔رات دن گھروں میں بیٹھے رہتے تھے اور اس پر انگشت بدندان تھے۔(طبری جلد 4 صفحه ۲۹۶۲ مطبوعہ بیروت) چونکہ یہ لوگ پچھلی دفعہ اپنی اکابر صحابہ کا باغیوں سے واپسی کی وجہ دریافت کرنا ملی کا اظہار کر کے گئے تھے