انوارالعلوم (جلد 4) — Page 256
انوار العلوم جلد ۲۵۶ اسلام میں اختلافات کا آغاز ایک خطرناک غلطی تھی۔باقی رہا یہ اعتراض کہ صحابہ کو خاص طور پر اموال کیوں دیئے جاتے تھے یہ بھی ایک وسوسہ تھا۔کیونکہ صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا ان کے حقوق کے مطابق ملتا تھا۔وہ دوسرے لوگوں کے حقوق دبا کر نہیں لیتے تھے۔بلکہ ہر ایک شخص خواہ وہ کل کا مسلمان ہو اپنا حق اسی طرح پاتا تھا جس طرح ایک سابق بالایمان۔ہاں صحابہ کا کام اور ان کی محنت اور قربانی دوسرے لوگوں سے بڑھی ہوئی تھی اور ان کی پرانی خدمات اس پر مستزاد تھیں۔پس وہ ظلماً نہیں بلکہ انصافا دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے۔اس لئے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ بدلہ پاتے تھے۔انہوں نے اپنے حصے خود نہ مقرر کئے تھے بلکہ خدا اور اس کے رسول نے ان کے حصے مقرر کئے تھے۔اگر ان لوگوں کے ساتھ خاص معاملہ نہ کیا جاتا تو وہ پیشگوئیاں کیونکر پوری ہو تیں۔جو قرآن کریم اور احادیث رسول کریم میں ان لوگوں کی ترقی اور ان کے اقبال اور ان کی رفاہت اور ان کے غناء کی نسبت کی گئی تھیں۔اگر حضرت عمر " کسری کی حکومت کے زوال اور اس کے خزانوں کی فتح پر کسری کے کڑے سراقہ بن مالک کو نہ دیتے اور نہ پہناتے تو رسول کریم ال کی وہ بات کیونکر پوری ہوتی کہ میں سراقہ کے ہاتھ میں کسری کے کڑے دیکھتا ہوں۔مگر میں یہ بھی کہوں گا کہ صحابہ کو جو کچھ ملتا تھا دوسروں کا حق مار کر نہ ملتا تھا بلکہ ہر ایک شخص جو ذرا بھی حکومت کا کام کرتا تھا اس کو اس کا حق دیا جاتا تھا۔اور خلفاء اس بارے میں نہایت محتاط تھے۔صحابہ کو صرف ان کا حق دیا جاتا تھا اور وہ ان کے کام اور ان کی سابقہ خدمات کے لحاظ سے بے شک دوسروں سے زیادہ ہو تا تھا۔اور پھر ان میں سے ایک حصہ موجودہ جنگوں میں بھی حصہ لیتا تھا اور اس خدمت کے صلہ میں بھی وہ ویسے ہی بدلہ کا کی مستحق ہوتا جیسے کہ اور لوگ۔مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ ان اموال کو جمع کرنے یا ان کو اپنے نفسوں پر خرچ کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ وہ اپنا حصہ صرف خدا اور رسول کے کلام کو سچا کرنے کے لئے لیتے تھے ورنہ ان میں سے ہر ایک اپنی سخاوت اور اپنی عطا میں اپنی نظیر آپ تھا اور ان کے اموال صرف غرباء کی کفالت اور ان کی خبر گیری میں صرف ہوتے تھے۔غرض صحابہ کی نسبت جو بعض لوگوں کو حسد اور صحابہ کی نسبت بد گمانی بلاوجہ ہے بد گمانی پیدا ہو گئی تھی بلاوجہ اور بلا سب تھی۔مگر بلا وجہ ہو یا باوجہ اس کا بیج بویا گیا تھا اور دین کی حقیقت سے ناواقف لوگوں میں سے ایک طبقہ